30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے اس کی بیعت کرتی تھیں کہ ہم آئندہ گناہوں سے بچیں گی اور یہ ہی مشائخ کی بیعت کا مَنشا ہے۔ یاد رہے کہ بیعت کی چار قسمیں ہیں ،(1) بیعت ِاسلام ،(2) بیعت ِخلافت،(3) بیعت ِتقویٰ، (4)بیعت ِتوبہ، آج کل کی بیعت توبہ یا تقویٰ کی بیعت ہے، اس بیعت کا ماخَذ یہ آیت اور اس جیسی دوسری آیات ہیں ۔
عورت کس کی مریدنی بنے:
عورت کواسی پیر کی مریدہ بننا چاہیے جس میں پیر کامل کی شرطیں پائی جائیں، چنانچہ اعلیٰ حضرت، امام اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :بیعت لینے اور مسندِ اِرشاد پر بیٹھنے کے لئے چارشَرطیں ضَروری ہیں: ایک یہ کہ سُنّی صحیحُ العقیدہ ہو اس لئے کہ بدمذہب دوزخ کے کتے ہیں اور بدترین مخلوق، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔دوسری شرط ضَروری عِلم کا ہونا، اس لئے کہ بے علم خُدا کو پہچان نہیں سکتا۔تیسری یہ کہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرنا اس لئے کہ فاسِق کی توہین واجب ہے اور مُرشِد واجبُ التعظیم ہے دونوں چیزیں کیسے اکھٹی ہوں گی۔چوتھی اجازتِ صحیح مُتَّصِل ہو جیسا کہ اس پر اہلِ باطن کا اِجما ع ہے۔جس شخص میں اِن شَرائط میں سے کوئی ایک شرط نہ ہو تو اس کو پیر نہیں پکڑنا چاہئے۔(1)
صَدرُ الشَّریعہ بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جب مُرید ہونا ہو تو اچھی طرح تفتیش کر لیں، ورنہ اگر (کسی ایسے کو پیر بنا لیا جو) بد مذہب ہوا تو اِیمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔(2)
پیر سے پردہ:
پیر سے پردے کا مسئلہ بھی بہت اہم ہے کہ بعض جگہ پیراور عورتیں دونوں ہی اس حوالے سے غفلت کا شکار نظر آتے ہیں، حکم شرعی یہ ہے کہ عورت کاجس طرح نامحرم اجنبی شخص سے پردہ کرنافرض ہے اسی طرح عورت کااپنے نامحرم پیرومرشدسے پردہ کرنابھی فرض ہے کہ پردے کے معاملے میں دونوں کاحکم یکساں ہے، لہٰذاعورت کابال یاکلائیاں کھول کر اپنے نامحرم پیرکے سامنے آنا حرام اوراسی طرح چہرہ کھول کرآنابھی سخت منع ہے۔چنانچہ اس بارے میں اعلی حضرت امام اہلسنت احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بے پردہ بایں معنی
[1] … فتاویٰ رضویہ،۲۱/۴۹۱
[2] … بہارِ شریعت،۱/۲۷۷،حصّہ:۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع