30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ ہم غور اور مشورہ کرلیں ، کل آپ کو جواب دیں گے۔ جب وہ جمع ہوئے تو انہوں نے اپنے سب سے بڑے عالم اور صاحب رائے شخص عاقب سے کہا کہ’’ اے عبدُ المسیح ! مباہلہ کرنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: اے نصاریٰ کی جماعت! تم پہچان چکے ہو کہ محمدنبی مُرْسَل تو ضرور ہیں۔ اگر تم نے ان سے مباہلہ کیا تو سب ہلاک ہوجاؤ گے۔ اب اگر نصرانیت پر قائم رہنا چاہتے ہو تو انہیں چھوڑ دو اور گھروں کو لوٹ چلو۔ یہ مشورہ ہونے کے بعد وہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ حضورانور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی گود میں تو امام حسین رضی اللہ عنہ ہیں اور دستِ مبارک میں امام حسن رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ہے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی کرّم اللہ وجہہ الکریم حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پیچھے ہیں اور حضورپر نور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ان سب سے فرما رہے ہیں کہ’’ جب میں دعا کروں تو تم سب آمین کہنا۔‘‘ نجران کے سب سے بڑے عیسائی پادری نے جب ان حضرات کو دیکھا تو کہنے لگا :اے جماعت ِ نصاریٰ! میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ لوگ اللہ عزّوجلّ سے پہاڑ کو ہٹادینے کی دعا کریں تو اللہ تعالیٰ پہاڑ کو جگہ سے ہٹا دے، ان سے مباہلہ نہ کرنا ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور قیامت تک روئے زمین پر کوئی عیسائی باقی نہ رہے گا۔ یہ سن کر نصاریٰ نے سرکارِ کائنات صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں عرض کی: مباہلہ کی تو ہماری رائے نہیں ہے۔ آخر کار انہوں نے جزیہ دینا منظور کیا مگر مباہلہ کے لیے تیار نہ ہوئے۔ (1)
اس کے بعدسرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، نجران والوں پر عذاب قریب آ ہی چکا تھا۔ اگر وہ مباہلہ کرتے تو بندروں اور سوروں کی صورت میں مسخ کردیئے جاتے اور جنگل آگ سے بھڑک اٹھتا اور نجران اور وہاں کے رہنے والے پرند ے تک نیست و نابود ہوجاتے اور ایک سال کے عرصہ میں تمام نصاریٰ ہلاک ہوجاتے۔(2)
حضرت فاطمہ کے فضائل:
آپ رضی اللہ عنہا کی شان بہت بلند ہے ، یہاں آپ کے فضائل پر مشتمل نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی چار احادیث ملاحظہ کریں:
[1] … خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ:۶۱،۱/۲۵۸
[2] … ابو سعود، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۶۱، ۱ / ۳۷۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع