30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیدۃ النساء ، خاتون جنت، حضرت سیدتنا فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کے ذکر پاک کی طرف اشارہ
خاتون جنت ،سیدہ فاطمۃ الزہراءشہنشاہِ کونین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سب سے چھوٹی، چہیتی اور لاڈلی شہزادی ہیں۔ زہراء، بتول، طاہرہ، مظہرہ، زاکیہ، راضیہ اور جنتی عورتوں کی سردار آپ کے القاب اور کنیت امِ محمد ہے۔ آپ کی ولادت نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اعلان نبوت سے پانچ سال پہلے ان دنوں ہوئی جب قریش مکہ خانہ کعبہ کی تعمیر میں مصروف تھے ۔آپ رضی اللہ عنہا کا بچن والدہ ماجدہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے زیر سایہ گزرا اور جب اعلانِ نبوت کے دسویں سال ماں کی آغوش سے جدائی ہوئی تو اس کے بعد ان کے گہوارۂ تربیت صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا سایہ رحمت تھا۔جوان ہونے پرآپ رضی اللہ عنہ کا نکاح مولائے کائنات حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے ہوا اور ان سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین شہزادے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ، شہیدِ کربلا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت محسن رضی اللہ عنہ اور تین شہزادیاں حضرت زینب، ام کلثوم اور رقیہ رضی اللہ عنہن عطا فرمائیں۔ قرآنِ پاک کی اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں آپ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ ہے ۔ ارشاد ِباری تعالیٰ ہے:
فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ- ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ(۶۱) (1)
ترجمہ : پھر اے حبیب! تمہارے پاس علم آجانے کے بعد جو تم سے عیسیٰ کے بارے میں جھگڑا کریں تو تم ان سے فرما دو: آ ؤ ہم اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کواور اپنی عورتوں کواور تمہاری عورتوں کواور اپنی جانوں کواور تمہاری جانوں کو (مقابلے میں) بلا لیتے ہیں پھر مباہلہ کرتے ہیں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالتے ہیں ۔
یہاں مباہلے کا ذکر ہورہا ہے اس کا معنیٰ سمجھ لیں ، مُباہَلہ کا عمومی مفہوم یہ ہے کہ دو مدمقابل افراد آپس میں یوں دعا کریں کہ اگر تم حق پر اور میں باطل ہوں تو اللہ تعالیٰ مجھے ہلاک کرے اور اگر میں حق پر اور تم باطل پر ہو تو اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کرے۔ پھر یہی بات دوسرا فریق بھی کہے۔اس آیت پر عمل کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جب عیسائیوں کی طرف تشریف لے گئے تو اپنی خواتین کے مصداق کے طور پر جو ہستی ساتھ تھیں وہ سیدۃ النساء ، خاتون جنت، حضرت سیدتنا فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا تھیں۔اس کا واقعہ یہ ہے کہ جب سرکارِ عالی وقار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے نجران کے عیسائیوں کو یہ آیت پڑھ کر سنائی اور مباہلہ کی دعوت دی تو کہنے لگے
[1] … پ3،آل عمران:61
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع