30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رضی اللہ عنہا کے یہاں شہد نوش فرماتے اور اُن کے یہاں کچھ زیادہ دیر تشریف فرما رہتے تھے۔میں نے اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے باہم مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے ہاں حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف فرما ہوں تووہ ان سے عرض کرے:کیا آپ نے مغافیر تَناوُل فرمایا ہے، مجھے آپ (کے دہنِ مبارک) سے مغافیر کی بُو آرہی ہے۔ (جب ایسا کیا گیا اور حضورِ انور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ان کا مَنشاء معلوم تھا تو) ارشاد فرمایا:نہیں ،البتہ میں نے زینب بنت ِجحش رضی اللہ عنہا کے یہاں شہد نوش فرمایا تھا تو ہرگز میں دوبارہ ایسا نہیں کروں گا اور میں نے اس پر قَسم کھائی ،تم اس بات کی کسی اور کو خبر مت دینا۔“(1)
اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی:
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَۚ-تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱)(2)
ترجمہ : اے نبی!تم اپنی بیویوں کی رضا چاہتے ہوئے اپنے اوپر اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہے اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
آیت کے آخر میں ارشاد فرمایاکہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے،اس نے آپ کی ان دونوں مبارک بیویوں کا یہ قصور معاف فرمادیا او ر آپ کے لئے اس قَسم کا کفار ہ بیان فرما دیا ہے جس سے آپ کی ساری امت پر آسانی ہو گی۔
آیت’’یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں :
(1)قسم کھا لینے سے چیز قسم کھانے والے پر حرام ہو جاتی ہے اور جب وہ چیز استعمال کرے گا کفارہ لازم ہوگا۔
(2) حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کاشہد کو اپنے آپ پر حرام فرما لینا محض ازواجِ مُطَہَّرات رضی اللہ عنہنَّ کو راضی کرنے کے لئے تھا ،نہ کہ بے علمی کی وجہ سے کیونکہ اپنے منہ کی بُوغیب نہیں وہ تو محسوس ہوتی ہے، لہٰذا بدمذہب اس آیت سے حضور پُر صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بے علمی پر دلیل نہیں پکڑ سکتے۔
[1] … بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ التحریم، باب یا ایّہا النبی لم تحرّم ما احلّ اللہ لک…الخ، ۳/۳۵۹، حدیث:۴۹۱۲
[2] … پ 28، التحریم:1
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع