30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آیت کے اس حصے کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! جب تم میرے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ازواجِ مطہرات سے کوئی سامان مانگوتو پردے کے باہرسے مانگو۔ بغیر اجازت کے داخل نہ ہونا،باتیں کرنے کے لئے وہاں بیٹھے نہ رہنا اور پردے کے پیچھے سے مانگنا تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کیلئے زیادہ پاکیزگی کی بات ہے کیونکہ اس صورت میں وسوسوں اوربیہودہ خیالات سے امن رہتا ہے۔(1)
اجنبی مرد اور عورت کو پردے کا حکم :
اَزواجِ مُطَہَّرات رضی اللہ عنہنَّ امت کی مائیں ہیں اور ان کے بارے میں کوئی شخص اپنے دل میں بُرا خیال لانے کا تَصَوُّر تک نہیں کر سکتااس کے باوجود مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا کہ ان سے کوئی چیز مانگنی ہے تو پردے کے پیچھے سے مانگو تاکہ کسی کے دل میں کوئی شیطانی خیال پیدا نہ ہو۔جب امت کی ماؤں کے بارے میں یہ حکم ہے تو عام عورتوں کے بارے میں کیا حکم ہو گا؟عام عورتوں کو پردہ کرنے اور اجنبی مردوں کو ان سے پردہ کرنے کی حاجت زیادہ ہے کیونکہ لوگوں کی نظر میں ان کی وہ حیثیت اور مقام نہیں جو ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہنَّ کا ہے، اس لئے یہاں دل میں شیطانی وسوسے آنے اور بیہودہ خیالات پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہے۔افسوس! ہمارے معاشرے میں اجنبی عورت اور مرد میں پردہ ختم کرنے اور ان کے درمیا ن قربتیں بڑھانے کے مختلف طریقے اور انداز اختیار کئے جا رہے اور دُنْیَوی معاملات کے ہر میدان میں عورت اور مرد ایک دوسرے کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم چلتے نظر آرہے ہیں جبکہ پردے کے حق میں بولنے والوں کو پرانی سوچ کا حامل اوربدلتے وقت کے تقاضوں کے مطابق نہ چلنے والا کہہ کر صَرفِ نظر کیا جا رہا ہے، ایسے طور طریقے اختیار کرنے والے لوگ خود ہی غور کر لیں کہ ان کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے حکم کے مطابق ہے یا وہ اس کے برخلاف چل رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں سچی ہدایت اور اسلامی احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
کوئی شخص اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں اپنے نفس پرا عتماد نہ کرے:
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہو ا کہ کوئی شخص کتنا ہی نیک،پارسا اور پرہیز گار کیوں نہ ہو،وہ اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں اپنے نفس پر اعتماد نہ کرے، یہی اس کے حال کے زیادہ مناسب ہے اوراسی میں اس کے نفس اور
[1] … ابو سعود،الاحزاب،تحت الآیۃ:۵۳،۴/۳۳۰، جمل مع جلالین،الاحزاب، تحت الآیۃ:۵۳، ۶/۱۹۴-۱۹۵، ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع