30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآىٕهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًاؕ-وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا(۳۷)(1)
اللہ اس بات کازیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو پھر جب زید نے اس سے حاجت پوری کرلی تو ہم نے آپ کا اس کے ساتھ نکاح کردیاتاکہ مسلمانوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (سے نکاح کرنے) میں کچھ حرج نہ رہے جب ان سے اپنی حاجت پوری کرلیں اور اللہ کا حکم پوراہوکر رہتاہے۔
اس آیت میں جس واقعے کی طرف اشارہ فرمایاگیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی عظیم دولت سے نواز کر ان پر انعام فرمایا اور حضور پُرنور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے انہیں آزاد کر کے اور ان کی پرورش فرما کر ان پر انعام اور احسان فرمایا۔جب حضرت زید رضی اللہ عنہ کا نکاح حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے ہو چکا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا آپ کی ازواجِ مُطَہَّرات رضی اللہ عنہنَّ میں داخل ہوں گی، اللہ تعالیٰ کو یہی منظور ہے۔ چنانچہ اس کی صورت یہ ہوئی کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ اورحضرت زینب رضی اللہ عنہا کے درمیان موافقت نہ ہوئی اور حضرت زید رضی اللہ عنہ نے سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی سخت انداز میں گفتگو ، تیز زبانی ، اطاعت نہ کرنے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی شکایت کی۔ ایسا بار بار اتفاق ہوا اور ہر بار حضور انور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم حضرت زید رضی اللہ عنہ کو سمجھا دیتے اور ان سے ارشاد فرماتے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رکھو اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا پر تکبر کرنے اور شوہر کو تکلیف دینے کے الزام لگانے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم حضرت زید رضی اللہ عنہ پر یہ ظاہر نہیں فرماتے تھے کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ تمہارا گزارہ نہیں ہو سکے گا اور طلاق ضرور واقع ہو گی اور اللہ تعالیٰ انہیں ازواجِ مُطَہَّرات رضی اللہ عنہنَّ میں داخل کرے گااور اللہ تعالیٰ کو یہ بات ظاہر کرنا منظور تھی ۔ جب حضرت زید رضی اللہ عنہ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو لوگوں کی طرف سے اعتراض کئے جانے کا اندیشہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کرنے کا ہےاور ایسا کرنے سے لوگ طعنہ دیں گے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ایسی عورت کے ساتھ نکاح کر لیا جو ان کے منہ بولے
[1] … پ 22 ، الاحزاب:37
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع