30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوا کہ مساوی حقوق حاصل ہونے کی وجہ سے مرد عورت کی کسی سرگرمی پر نہ کوئی اعتراض کر سکتا تھا اور نہ ہی اسے زبردستی روک سکتاتھا،اسی طرح عورت بھی مرد کی کسی سرگرمی پر نہ تو کوئی اعتراض کر سکتی تھی اور نہ ہی اسے جبراً روک سکتی تھی ۔ اس طرزِ عمل کے نتیجے میں مرد و عورت دونوں شدید قسم کے ذہنی اور نفسیاتی امراض کا شکار ہو گئے اور اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ نفسیاتی مسائل اور ان کی علاج گاہیں مغربی ممالک میں ہیں۔ خاندانی اور نفسیاتی مسائل کے علاوہ جدید نظریہ مساوات نے یہ گل کھلایا کہ معاشرے میں طلاق کی شرح حد سے زیادہ بڑھ گئی اور اس کی وجہ سے عورت پر معاشی ذمہ داروں کا بوجھ بڑھ گیا کیونکہ جو مرد طلاق سے پہلے عورت کو نان نفقہ دینے کا عادی نہیں تھا تو وہ طلاق کے بعد بچوں کا خرچ کیوں اٹھاتا۔
(2) جدید نظریہ مساوات کے حامی کہتے ہیں کہ مرد کی طرح عورت کو بھی معاشی طور پر خود کفیل ہونا چاہئے لہذا اسے اپنا کام کرنے اور نوکری کرنے کی آزادی دی جائے اور انہیں کاروباری اور تعلیمی اداروں میں ملازمت کے مواقع بھی مردوں کے برابر ملنے چاہئے،یونہیترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے معاشرے کا مخلوط ہونا اور زندگی کے ہر شعبہ میں مرد کے ساتھ عورت کا موجود ہونا ضروری ہے ، اس کے بغیر ہم ترقی کے اہداف حاصل کرنے کی بجائے قدامت پسندی اور بنیاد پرستی کا شکار رہیں گے۔چنانچہ اس اصول کو بہت سے ممالک نے ملکی سطح نافذ کر دیا اور سب اداروں کو اس بات کا پابند بنادیا کہ وہ جتنے مردوں کو ملازمت دیں گے اتنی ہی عورتوں کو بھی ملازمت دینی ہو گی۔ کاروبار ، ملازمت اور تعلیم کے مخلوط ماحول میں عورت کو مرد کے ساتھ برابر ی تو مل گئی لیکن دوسری طرف عورت، سماج اور معاشرہ بہت سنگین مسائل کا شکار ہو گئے، معاشرتی اور سماجی ماحول انتہائی پراگندہ ہو گیا، مرد و عورت میں قربت بڑھنے لگی، نکاح کے بغیر جنسی تعلقات کو فروغ ملا،کم عمر اور نابالغ بچیاں مائیں بننے لگیں ، حمل ضائع کروانے کے لئے لائنیں لگنا شروع ہوئیں، کچھ کے ہاں ناجائز تعلقات سے بچے بھی پیدا ہوئے اور بعض ممالک کو ناجائز بچوں کی کثرت دیکھ کر اکیلی ماں سے متعلق قوانین بنانا پڑے۔ جنسی ہراسانی کے واقعات اور جبری جنسی تشدد میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا، عورت کے ساتھ تعصب، نفرت اور امتیازی سلوک بڑھ گیا اور عورت ہر جگہ خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع