30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھا ایک مباح وجائز امر تھا۔(1)
(3) نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حکم اورآپ کے مشورے میں فرق ہے ،حکم پر سب کو سر جھکانا پڑے گا اورمشورہ قبول کر نے یا نہ کر نے کا حق ہو گا۔ اسی لئے یہاں’’اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا‘‘یعنی’’ جب اللہ و رسول کچھ حکم فرمادیں۔‘‘فرمایا گیا اور دوسری جگہ ارشاد ہوا:’’وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ‘‘(اٰل عمران:۱۵۹) ترجمہ : اور کاموں میں ان سے مشورہ لیتے رہو۔
شرعی احکام اور اختیاراتِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم :
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہو اکہ حضور پُر نور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کی عطا سے شرعی احکام میں خود مختار ہیں ۔ آپ جسے جو چاہے حکم دے سکتے ہیں ،جس کے لئے جو چیز چاہے جائز یا ناجائز کر سکتے ہیں اور جسے جس حکم سے چاہے الگ فرما سکتے ہیں ۔کثیر صحیح اَحادیث میں اس کے شواہد موجود ہیں ،یہاں ان میں سے3اَحادیث درج ذیل ہیں:
(1) حضرت اُمِّ عطیہ رضی اللہ عنہا کو ایک گھر کے مُردے پر بَین کر کے رونے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ حضرت اُمِّ عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں (جب عورتوں کی بیعت سے متعلق آیت اتری اوراس میں ہر گناہ سے بچنے کی شرط تھی کہ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ، اورمردے پر بین کر کے رونا چیخنا بھی گناہ تھا) میں نے عرض کی: یارسول اللہ ! صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ، فلاں گھر والوں کا اِستثناء فرمادیجئے کیونکہ انہوں نے زمانہ ٔجاہلیّت میں میرے ساتھ ہوکر میری ایک میت پر نوحہ کیاتھا تو مجھے ان کی میت پر نوحے میں ان کا ساتھ دینا ضروری ہے ۔سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: اچھا وہ مُستَثنیٰ کردئیے۔(2)
(2) حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو وفات کی عدت کے عام حکم سے الگ فرما دیا اور ان کی عدت چار مہینے دس دن کی بجائے تین دن مقرر فرما دی ۔چنانچہ حضرت اسماء بنت عُمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے توسیّد المرسَلین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجھے حکم دیا:تم تین دن تک (سنگار
[1] … فتاویٰ رضویہ،رسالہ: منیۃ اللبیب انّ التشریع بید الحبیب، ۳۰ /۵۱۷-۵۱۸
[2] … مسلم، کتاب الجنائز، باب التشدید فی النیاحۃ، ص۴۶۶، الحدیث: ۳۳(۹۳۷)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع