30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠(۲۶)(1)
بَری ہیں جو لوگ کہہ رہے ہیں ۔ ان (پاکیزہ لوگوں ) کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔
آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ گندے کے لئے گندہ لائق ہے، گندی عورت گندے مرد کے لئے اورگندہ مرد گندی عورت کے لئے اور گندہ آدمی گندی باتوں کے درپے ہوتا ہے اور گندی باتیں گندے آدمی کا وَطیرہ ہوتی ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کیلئے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کیلئے ہیں ۔ وہ پاک مرد اور عورتیں جن میں سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت صفوان رضی اللہ عنہ ہیں ، ان باتوں سے بَری ہیں جویہ تہمت لگانے والے کہہ رہے ہیں ۔ ان پاکیزہ لوگوں کے لیے بخشش اور جنت میں عزت کی روزی ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت اور خصوصیات:
اس آیت سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا کمالِ فضل و شرف ثابت ہواکہ وہ طَیِّبہ اور پاک پیدا کی گئیں اور قرآنِ کریم میں اُن کی پاکی کا بیان فرمایا گیا اور انہیں مغفرت اور رزقِ کریم کا وعدہ دیا گیا۔اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اللہ تعالیٰ نے بہت سے خَصائِص عطا فرمائے جو آپ رضی اللہ عنہا کے لئے قابلِ فخر ہیں ، ان میں سے بعض یہ ہیں :
(1) حضرت جبریلِ اَمین علیہ السلام رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں ایک ریشمی کپڑے پر آپ رضی اللہ عنہا کی تصویر لائے اور عرض کیا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زوجہ ہیں ۔
(2) نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی کنواری عورت سے نکاح نہ فرمایا۔
(3) رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی وفات آپ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف آوری کے دِن ہوئی۔
(4) آپ رضی اللہ عنہا ہی کا حجرۂ شریفہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی آرام گاہ بنا۔
(5) بعض اوقات ایسی حالت میں حضور پُر نور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر وحی نازل ہوئی کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے لحاف میں ہوتیں ۔
(6) آپ رضی اللہ عنہا رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے خلیفہ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی دُختر ہیں ۔
(7) آپ رضی اللہ عنہا پاک پیدا کی گئیں اور آپ رضی اللہ عنہا سے مغفرت و رزقِ کریم کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ (2)
[1] … پ 18، النور:26
[2] … خازن، النور، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳ / ۳۴۶، مدارک، النور، تحت الآیۃ: ۲۶، ص۷۷۶، ملتقطاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع