30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۱۱) لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًاۙ-وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ(۱۲)(1)
اس نے کمایا اور ان میں سے وہ شخص جس نے اس بہتان کاسب سے بڑا حصہ اٹھایا اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔ایسا کیوں نہ ہواکہ جب تم نے یہ بہتان سنا تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اپنے لوگوں پر نیک گمان کرتے اور کہتے: یہ کھلا بہتان ہے۔
یہ آیتیں اور ا ن کے بعد والی چند آیتیں اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان میں نازل ہوئیں جن میں آپ رضی اللہ عنہا کی عفت و عصمت کی گواہی خود ربُّ العالَمین نے دی اور آپ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والے منافقین کو سزا کا مژدہ سنایا۔ آیت نازل ہونے سے پہلے ہی اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے دل مطمئن تھے، آیت کے نزول نے ان کی عزت و شرافت اور زیادہ کردی تو بدگویوں کی بدگوئی اللہ عزّوجلّ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور صحابۂ کِبار رضی اللہ عنہم کے نزدیک باطل ہے اور بدگوئی کرنے والوں کے لئے سخت ترین مصیبت ہے۔
ارشاد فرمایا:’’ مِّنْكُمْ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ ‘‘ تم اس بہتان کو اپنے لیے برا نہ سمجھو۔
یعنی اے بہتان سے بچنے والو!تم اس بہتان کو اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ بہتان سے بچناتمہارے لیے بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس پر جزا دے گا اور اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان اور ان کی براء ت ظاہر فرمائے گا، چنانچہ اس براء ت میں اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ آیتیں نازل فرمائیں۔(2)
مزید فرمایا:’’ - لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ ‘‘ ان میں سے ہر شخص کیلئے۔
یعنی ان بہتان لگانے والوں میں سے ہر شخص کے لئے اس کے عمل کے مطابق گنا ہ ہے کہ کسی نے طوفان اُٹھایا، کسی نے بہتان اُٹھانے والے کی زبانی موافقت کی، کوئی ہنس دیا، کسی نے خاموشی کے ساتھ سن ہی لیا، الغرض جس نے جو کیا اس کا بدلہ پائے گا۔(3)
اور فرمایا:’’ - وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ ‘‘ ان میں سے وہ شخص جس نے اس کاسب سے بڑا حصہ اُٹھایا۔
یعنی ان بہتان لگانے والوں میں سے وہ شخص جس نے اس بہتان کاسب سے بڑا حصہ اٹھایا کہ اپنے دل سے
[1] … پ 18،النور:11-12
[2] … مدارک، النور، تحت الآیۃ: ۱۱، ص:۷۷۱، ملخصاً
[3] … مدارک، النور، تحت الآیۃ: ۱۱، ص۷۷۱-۷۷۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع