30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(8)دنیا میں سونا پہننااور ریشم کا لباس مرد پر حرام ہے جبکہ یہ دونوں عورتوں کے لیے حلال ہیں ۔
(8)جدید تصورِ مساوات:
اسلامی مساوات کے مقابلے میں دورِ جدید کے نظریہ مساوات کو دیکھا جائے تو یہ کسی صورت عدل و انصاف کے حقیقی تقاضوں پر پورا نہیں اترتا بلکہ اس کی وجہ سے عورت کو بے شمار معاشرتی ، سماجی ، نفسیاتی اور جسمانی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،جیسے مغربی معاشرے میں مشترکہ طور پر یہ طے کیاگیا ہے کہ عورت کوتمام معاملات میں مرد کے مساوی حقوق حاصل ہوں گے اور عورت ہونے کی وجہ سے حقوق کے معاملے میں اس کے ساتھ کوئی تفریق نہیں کی جائے گی۔ اسی اصول و قانون کے پیش نظر معاشرے میں ہر سطح پر مرد و عورت کو برابری دینے کے لیے ملکی قوانین میں تبدیلیاں کی گئیں ، رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے سیمینار ہوئے اور عوام کو اس جانب راغب کرنے کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کیا گیا،بالآخر اس جن نے بوتل سے باہر آ کر سماج و معاشرے کا حشر نشر کر دیا اور اب لاکھ کوشش کے باوجود بوتل میں بند ہونے کو تیار نہیں ہے۔یہاں دومعاملات میں مردو عورت کے درمیان مساوات اور اس کا انجام ملاحظہ ہو۔
(1) اہل مغرب نے نکاح کو ایک سماجی معاہدہ قرار دے کر اسے دین و مذہب سے بالکل خارج کر دیا اور اس معاہدے کے دونوں فریق یعنی مرد و عورت کو ایک جیسے حقوق دے کر دنیا کے سامنے مساوات کی مثال پیش کر دی۔ابتداء میں تو چیز بہت خوبصورت اور بھلی معلوم ہوئی لیکن آگے چل کر اس کا نتیجہ خاندانی نظام کی تباہی ، نفسیاتی امراض میں زیادتی،طلاق کی شرح میں ہوشربا اضافے اور عورت پرمعاشی ذمہ داریوں کے بوجھ کی صورت میں نکلا۔ا س کی تفصیل یہ ہے کہ خاندان کا آغاز اس رشتے سے ہوتا ہے جو دینی و مذہبی اصول و ضوابط کے مطابق ہونے والے نکاح سے مرد وعورت کے درمیان بنتا ہے اور یہاں تو نکاح کی دینی و مذہبی حیثیت ختم کر کے اسے صرف سماجی معاہدہ بنا دیا گیا اور مساوات کے نام پر مردو عورت کو ان تمام ذمہ داریوں سے آزادی دے دی گئی جو نکاح کے بعد دین و مذہب کی طرف سے ان پر لازم ہوتی تھیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خاندانی نظام کی بنیاد کمزور ہو ئی اور آخر کار اس کی عمارت زمین بوس ہو گئی۔ نفسیاتی امراض میں اضافہ اس طرح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع