30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اہل بیت کی طہارت و پاکیزگی:
ارشاد فرمایا: ’’ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا ‘‘اے نبی کے گھر والو! اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے۔
یعنی اے میرے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے گھر والو! اللہ تعالیٰ تو یہی چاہتا ہے کہ گناہوں کی نجاست سے تم آلودہ نہ ہو۔(1)
تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اہلِ بیت:
اِس آیت میں اہلِ بیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ازواجِ مُطَہَّرات سب سے پہلے مراد ہیں کیونکہ آگے پیچھے سارا کلام ہی اُن کے متعلق ہورہا ہے۔ بقیہ نُفوسِ قُدسیہ یعنی خاتونِ جنت حضرت فاطمہ زہرا، حضرت علی المرتضیٰ اور حسنین کریمَین رضی اللہ عنہم کا اہلِ بیت میں داخل ہونابھی دلائل سے ثابت ہے۔
صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب’’سوانح کربلا‘‘میں یہ آیت لکھ کر اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے مِصداق کے بارے میں مفسرین کے اَقوال اور اَحادیث نقل فرمائیں۔ اس کے بعد فرماتے ہیں : ’’خلاصہ یہ کہ دولت سرائے اقدس کے سکونت رکھنے والے اس آیت میں داخل ہیں (یعنی ازواجِ مُطَہَّرات) کیونکہ وہی اس کے مُخاطَب ہیں (اور) چونکہ اہلِ بیتِ نسب (نسبی تعلق والوں ) کا مر اد ہونا مخفی تھا، اس لئے آں سَرور ِعالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنے اس فعل مبارک (جس میں پنجتن پاک کو چادر میں لے کر ان کے لئے دعا فرمائی) سے بیان فرمادیا کہ مراد اہلِ بیت سے عام ہیں۔ خواہ بیت ِمسکن کے اہل ہوں جیسے کہ اَزواج یا بیت ِنسب کے اہل (جیسے کہ) بنی ہاشم و مُطّلب۔(2)
تقویٰ اور پرہیزگاری کی ترغیب:
امام عبد اللہ بن احمد نسفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ان آیات (یعنی اس آیت اور اس کے بعد والی آیت) میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اہلِ بیت کو نصیحت فرمائی گئی ہے تاکہ وہ گناہوں سے بچیں اور تقویٰ و پرہیزگاری کے پابند رہیں ۔یہاں گناہوں کو ناپاکی سے اور پرہیزگاری کو پاکی سے تشبیہ دی گئی کیونکہ گناہوں کا
[1] … مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۳۳، ص۹۴۰، ملخصاً
[2] … سوانح کربلا، اہل بیت نبوت، ص۸۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع