30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایسی چیز نہ ملی جس سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روزہ افطار کر لیتیں ۔(1)
(2) حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :ایک شخص اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بارگاہ میں حاضر ہوا،اس وقت آپ اپنا نقاب سی رہی تھیں ،اس نے عرض کی :اے اُمُّ المؤمنین! رضی اللہ عنہا ، کیا اللہ تعالیٰ نے مال و دولت کی فراوانی نہیں فرما دی ؟آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: چھوڑو (ان باتوں کو، میرے نزدیک) وہ نئے کپڑوں کا حقدار نہیں جو پرانے کپڑے استعمال نہ کرے۔(2)
اللہ تعالیٰ ازواجِ مُطَہّرات رضی اللہ عنہنَّ کے زہد وقناعت کا صدقہ مسلمان مردوں اور عورتوں کو بھی زہد و قناعت اور دنیا سے بے رغبتی کی دولت نصیب فرمائے،اٰمین۔
گفتگو سے متعلق ایک ادب کی تعلیم:
ارشاد فرمایا:’’ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ ‘‘ اگرتم اللہ سے ڈرتی ہو۔
آیت کے اس حصے میں ازواجِ مُطَہّرات رضی اللہ عنہنَّ کو ایک ادب کی تعلیم دی گئی ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے حکم کی اوررسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رضا کی مخالفت کرنے سے ڈرتی ہو تو جب کسی ضرورت کی بنا پر غیر مرد سے پسِ پردہ گفتگو کرنی پڑ جاے تواس وقت ایسا انداز اختیار کرو جس سے لہجہ میں نزاکت نہ آنے پائے اور بات میں نرمی نہ ہو بلکہ انتہائی سادگی سے بات کی جائے اور اگر دین و اسلام کی اور نیکی کی تعلیم اور وعظ و نصیحت کی بات کرنے کی ضرورت پیش آئے تو بھی نرم اور نازک لہجے میں نہ ہو۔(3)
علامہ احمد صاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :ازواجِ مُطَہَّرات رضی اللہ عنہنَّ امت کی مائیں ہیں اور کوئی شخص اپنی ماں کے بارے میں بری سوچ رکھنے کا تصور تک نہیں کر سکتا، اس کے باوجود ازواجِ مُطَہَّرات رضی اللہ عنہنَّ کو بات کرتے وقت نرم لہجہ اپنانے سے منع کیا گیا تاکہ جو لوگ منافق ہیں وہ کوئی لالچ نہ کر سکیں کیونکہ ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں ہوتا جس کی بنا پر ان کی طرف سے کسی برے لالچ کا اندیشہ تھا ا س لئے نرم لہجہ
[1] … صاوی، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۲۹، ۵/۱۶۳۶
[2] … طبقات الکبری، ذکر ازواج رسول اللہ، عائشۃ بنت ابی بکر، ۸/۵۸
[3] … ابو سعود،الاحزاب،تحت الآیۃ:۳۲، ۴/۳۱۹-۳۲۰، مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۹۴۰، جمل، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۳۲، ۶/۱۷۰، ملتقطاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع