30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عنہا بنت ِ حُیَیْ بن اخطب خَیبریہ۔ (4)حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا بنتِ حارث مصطلقیہ۔
سرکار ِدو عالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے سب سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ آیت سنا کر اختیا ر دیا اور فرما یا کہ جلدی نہ کرو اوراپنے والدین سے مشورہ کرکے جو رائے ہو اس پر عمل کرو۔ انہوں نے عرض کی: حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے معا ملہ میں مشورہ کیسا میں اللہ تعالیٰ کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اور دارِ آخرت کو چاہتی ہو ں اور باقی از واجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے بھی یہی جواب دیا۔(1)
یہاں ایک فقہی مسئلہ یاد رکھیں کہ جس عورت کو اختیار دیا جائے وہ اگر اپنے شوہر کو اختیا ر کرے تو طلاق واقع نہیں ہوتی اور اگر اپنے نفس کو اختیار کرے تو اَحناف کے نزدیک ایک بائنہ طلاق واقع ہو تی ہے۔ نیزطلاق سے متعلق مزید مسائل کی معلومات حاصل کرنے کے لئے بہارِ شریعت حصہ 8کا مطالعہ فرمائیں ۔
آیت سے متعلق دو اہم باتیں:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضورپُرنور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اختیار کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کو اور قیامت کو اختیار کرنا ہے، جسے حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مل گئے اسے خدا اور ساری خدائی مل گئی اور جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے دور ہوا وہ اللہ تعالیٰ سے دور ہو گیا۔ یہ بھی معلو م ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی نیکیوں کا اجر و ثواب دوسروں سے زیادہ ہے۔
مسلمانوں پر حضور کا حق اور ازواج مطہرات کا درجہ
ارشاد فرمایا:
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْؕ- (2)
ترجمہ : یہ نبی مسلمانوں کے ان کی جانوں سے زیادہ مالک ہیں اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں ۔
اَولیٰ کے معنی ہیں زیادہ مالک، زیادہ قریب، زیادہ حقدار، یہاں تینوں معنی درست ہیں اور اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ دنیا اور دین کے تمام اُمور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا حکم مسلمانوں پر نافذ اور آپ کی اطاعت واجب ہے اورآپ کے حکم کے مقابلے میں نفس کی خواہش کو ترک کر دینا واجب ہے۔ دوسرا معنی یہ
[1] … خازن، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۲۸،۲۹، ۳ / ۴۹۷، ملخصاً
[2] … پ 21، الاحزاب:6
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع