30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضور پُر نور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حق میں ان عورتوں کا حلال ہونا اس قید کے ساتھ مُقَیَّد ہو جیسا کہ حضرت اُمِّ ہانی بنتِ ابو طالب کی روایت اس طرف اشارہ کرتی ہے، چنانچہ آپ فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے (بچوں والی ہونے کا) عذر پیش کیا،نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے میرے عذر کو قبول فرما لیا،پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو میں ان کے لئے حلال نہ کی گئی کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ ہجرت نہ کی تھی۔
(4)اس مومنہ عورت کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے لئے حلال کر دیا جو مہر اور نکاح کی شرائط کے بغیر اپنی جان آپ کو ہِبہ کردے البتہ اس میں شرط یہ ہے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اسے نکاح میں لانے کا ارادہ فرمائیں تو وہ حلال ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس میں آئندہ کے حکم کابیان ہے کیونکہ اس آیت کے نزول کے وقت حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اَزواج میں سے کوئی بھی ایسی نہ تھیں جو ہبہ کے ذریعے زوجیت سے مشرف ہوئی ہوں ۔
مزید فرمایا:’’ خَالِصَۃً لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘یہ خاص تمہارے لیے ہے، دیگر مسلمانوں کیلئے نہیں ۔
یعنی مہر کے بغیر نکاح کرنا خاص آ پ کے لئے جائز ہے اُمت کے لئے نہیں ، امت پر بہرحال مہر واجب ہے خواہ وہ مہر مُعَیَّن نہ کریں یا جان بوجھ کر مہر کی نفی کردیں ۔(1)
مہر کی کم از کم مقدار اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقرر ہے:
آیت میں فرمایا کہ: ’’ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْہِمْ ‘‘ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مسلمانوں پر مقرر کیا ہے۔
یعنی ہم نے مسلمانوں پر ان کی بیویوں کے حق میں جو کچھ مقرر فرمایا ہے جیسے مہر ادا کرنا اور نکاح کے لئے گواہوں کا ہونا اور بیویوں میں باری کا واجب ہونا اور چار آزاد عورتوں تک کو نکاح میں لانااور ان کی ملکیت میں موجود کنیزوں کے بارے میں جو احکام لازم کئے وہ ہمیں معلوم ہیں ۔(2)
اس سے معلوم ہوا کہ شرعاً مہر کی مقدار اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقرر ہے اور وہ دس درہم ہیں جس سے کم
[1] … تفسیرات احمدیہ، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۵۰، ص:۶۲۸
[2] … تفسیرات احمدیہ، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۵۰، ص:۶۲۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع