30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ٘-وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَاۗ-خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَؕ-قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۵۰)(1)
تمہیں مالِ غنیمت میں دیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اورتمہاری خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی اور ایمان والی عورت (تمہارے لئے حلال کی) اگر وہ اپنی جان نبی کی نذر کرے، اگر نبی اسے نکاح میں لانا چاہے۔ یہ خاص تمہارے لیے ہے، دیگر مسلمانوں کیلئے نہیں۔ ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مسلمانوں پر ان کی بیویوں اور ان کی مملوکہ کنیزوں میں مقرر کیا ہے۔ (یہ خصوصیت اس لئے) تاکہ تم پر کوئی تنگی نہ ہو اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
اس آیت میں نکاح سے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خصوصیت بیان فرمائی گئی اورجن عورتوں سے نکاح کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے لئے حلال فرمایا، یہاں ان کی چار قسمیں بیان کی گئی ہیں ،ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔
(1) وہ عورتیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مہر عطا فرمایا ،جیسے حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما ۔
(2) وہ عورتیں جو مال غنیمت میں حاصل ہوئیں ، جیسے حضرت صفیہ اورحضرت جویریہ رضی اللہ عنہما ، انہیں تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے آزاد فرمایا اور ان سے نکاح کیا ۔
(3) نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چچا کی بیٹیاں، پھوپھیوں کی بیٹیاں، ماموؤں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ ہجرت کی۔
ساتھ ہجرت کرنے سے مراد یہ ہے کہ ہجرت کرنے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیروی کی خواہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے پہلے ہجرت کی ہو یا بعد میں کی ہو اور یہ قید بھی افضل کا بیان ہے کیونکہ ساتھ ہجرت کرنے کے بغیر بھی ان میں سے ہر ایک (سے نکاح کرنا) حلال ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خاص
[1] … پ 22، الاحزاب:50
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع