30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں وہ سختی ،ڈانٹ ڈپٹ سے نہیں ہوا کرتے ۔شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی کتاب’’ نیکی کی دعوت ‘‘میں نرمی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی’’ میٹھے بول‘‘ میں بڑی تاثیر ہوتی ہے اور اس سے پتھر دل بھی پگھل کر موم ہو جاتے ہیں لہٰذا انفرادی کوشِش کرتے ہوئے ہمیشہ نرمی پیشِ نظر رکھنی چاہئے۔مزید فرماتے ہیں :اگر مدنی ماحول والے یا والی کے مزاج میں غصّہ،چڑ چڑا پن اور بد اَخلاقی ہوئی تو کامیابی مشکل ہے،لہٰذا اپنے اَخلاق دُرُست کیجئے اور ویسے بھی جسے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کی دُھن ہو اُس کیلئے ٹھنڈے مزاج کاہونا ضروری ہے کہ بے جا سختی کرنے سے بار ہا کام بنتے بنتے بگڑ جاتے ہیں۔نرمی کی اہمیت کو اِس حِکایت سے سمجھنے کی کوشِش کیجئے چُنانچِہ منقول ہے کہ کسی شَخص نے مَامونُ الرَّشِید پر اِحتساب کیا (یعنی کسی خَطا پر ٹوکا)اور اُس سے سختی کے ساتھ گفتگو کی تو مامونُ الرّشید نے کہا:اے جواں مرد! حق تعالیٰ نے تجھ سے بہترافراد کو جب مجھ سے بدترفرد کے پاس بھیجا تو اُن کو حکم دیا کہ اُس سے نرمی سے بات کرو،یعنی حضر تِ سیِّد ناموسیٰ اور حضرتِ سیِّد نا ہارون عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو(جو تجھ سے بہتر تھے)فرعون(جو مجھ سے بدتر تھا)کے پاس جب بھیجا تو فرمایا:
| فَقُوۡلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا (پ۱۶ ،طٰہ:۴۴) |
| ترجمۂ کنزالایمان: تو اُس سے نرم بات کہنا۔(1) |
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
[1] …اتحاف السادة المتقین ،کتاب الامر بالمعروف۔۔الخ ،الباب الثانی ،۸ /۱۰۴ملخصا،نیکی کی دعوت ، ص۴۰۴ملخصا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع