30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بارے میں سُوال کیا گیا تو آپ نے جواب دیا کہ ہم نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عمر کا آخری حصہ پایا اور آپ کے مدرسے میں مقیم رہے ،ہمارا اس طرح خیال رکھا جاتا کہ کبھی غوثِ اعظمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے شہزادے حضرت سیدنا یحیی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوہمارے جانب بھیجتے وہ ہمارے لیے چراغ جَلاتےاورآپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ہمارے لیے اپنے گھر سے کھانا بھیجتے۔(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا علمِ دین کےطلباء کی خیرخواہی غوثُ الاعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سنّت اور دنیا و آخرت میں سعادت پانے کا بہترین ذریعہ ہے،سیرت ِ غوثِ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اس پہلو کی چمک ہمیں حاجی مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی سیرت میں بھی نظر آتی ہے ،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی طلباء کی خیرخواہی فرماتے ،کبھی انہیں کُتُب خریدکر دیتے ،توکبھی راہ علم ِ دین میں آنے والی آزمائشوں پر صبر کی نصیحت فرماتے اور جب کسی طالب علم کے بارے میں معلوم ہوتا کہ اس نے جامعہ چھوڑ دیا ہے تو آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس سے خود رابطہ فرماکر اس کا ذہن بناتے چنانچہ
ایک مدنی اسلامی بھائی کا بیان ہے:دورانِ تعلیم مجھے کبھی بھی کوئی پریشانی دامن گیر ہوئی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےنہ صرف ہر طرح میری راہنمائی فرمائی بلکہ مالی تعاون بھی فرماتے رہے۔ ایک مرتبہ مجھے درسِ نظامی کے نصاب میں داخل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
[1] … سیر اعلام النبلاء،الشیخ عبد القادربن ابی صالح ،۱۵/۱۸۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع