30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خودداری
بلبلِ مدینہ حاجی مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیکے بھانجوں کے والد گرامی محمد سلیم چشتی عطاری کے بیان کا خلاصہ ہے:میں حاجی مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیکو بچپن ہی سے جانتا ہوں۔ میں نے ان کا بچپن، لڑکپن، جوانی اور آخری لمحات اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مدنی ماحول میں آنے کے بعد امیرِاہلسنّت کی نظر فیضِ اثر اور دعوتِ اسلامی کی برکتوں سے جو مقام پایا، وہ سب پر عیاں ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بہت ہی خوددار اور صاحبِ عزّت انسان تھے۔ ایک بار آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو مالی پریشانی دامن گیر تھی مگر آپ کی خودداری یہ گوارا نہیں کرتی تھی کہ کسی کے آگے دستِ سوال دراز کریں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مجھے خود بتایا کہ میں نے صبر کیا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کرم ہوا کہ شام تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے غیب سے ایسے اسباب پیدا فرمادیئے کہ میرا مسئلہ حل ہوگیا۔
متأثرکُن خود داری
مُبلغِ دعوت ِ اسلامی ابورجب محمد آصف عطاری مدنی (رکنِ مجلس المدینۃ العلمیۃ)نےمرحوم نگران شُوْریٰ حاجی محمد مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے وابستہ ایک حسین یاد کا ذکر یوں کیا:یہ 1998ء کی بات ہے میں جامعۃ المدینہ (گودھرا کالونی) کا طالب علم تھا۔ ایک دن جامعۃ المدینہ کے قریب ہی گیارہویں شریف کے سلسلے میں اجتماع ذکر و نعت کا اہتمام تھا، جس میں حاجی مشتاق عطاری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع