30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنی مصروفیات سےاس چھوٹی سی محفل کے لیے وقت نکال پائیں گے۔مقررہ دن میرے گھرمحفل جاری تھی۔ دورانِ محفل گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ جب دروازہ کھولا گیا تو ہماری خوشی کی کوئی حد نہ رہی کہ دروازے پر حاجی مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیجلوہ گر تھے۔ اس دن ہم خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے کہ ہماری چھوٹی سی محفل میں اتنی بڑی ہستی تشریف لے آئی۔
کہیں دل نہ ٹوٹ جائے
باب المدینہ کراچی کے ایک اسلامی بھائی جمیل عطاری نے حاجی مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے حُسنِ اخلاق کے بارے میں یوں بتایا: ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ میرے مدنی مُنّے کی ”رسم ِ بسم اللہ“تھی۔ میں نے حاجی مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی سے عرض کی: حضور! میرے مدنی مُنّے کی ”رسمِ بسم اللہ“ ہے اگر آپ پڑھائیں تو یقینًا ہمارے لیے سعادت مندی ہو گی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دعوت قبول فرمالی اور فرمایا کہ مجھے یاد دلادیجئے گا ۔
مقررہ دن میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دولت خانے پر حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ گھر کے کسی کام سے باہر جارہے تھےاور گھر میں کچھ مہمان بھی آئے ہوئے تھے۔ مجھے دیکھ کر فرمانے لگے: بھائی! گھر پر مہمان آئے ہیں، اب میں کیا کروں؟ میں نے عرض کی: حضور! میرے یہاں بھی مہمان آئے ہوئے ہیں اور بسم اللہ آپ ہی کو پڑھانی ہے۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمیرے ساتھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع