30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ کو گھر چھوڑنے کی ذمہ داری ایک اسلامی بھائی نے لے رکھی تھی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ان سے ارشاد فرمایا:’’جلدی چلیے مجھے فجر سے پہلے گھر پہنچ کر پانی بھر نا ہے۔“
امیر غریب کا فرق نہ تھا
حاجی مشتاق عطاریرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی طبیعت نمودونمائش اور حُبِّ جاہ سے چَنداں لگاؤ نہ رکھتی تھی۔ حالانکہ عام طور پردیکھا گیا ہے کہ اگر کسی کو کوئی بڑی شخصیت دعوت دے تو ہر طرح کی مصروفیات سے وقت نکال لیا جاتا ہے جبکہ اگر کوئی غریب اسلامی بھائی مدعو کرے تو مصروفیات کے پہاڑ نظر آنے لگتے ہیں۔ حاجی مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیکی شخصیت اس معاملے میں بھی انفرادی حیثیت کی مالک تھی کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکے ہاں دعوت میں شرکت کا معیارنہ تو شخصیت کا بڑا یا چھوٹا ہونا تھا اور نہ ہی محفل کابڑا چھوٹا ہونا ۔ چنانچہ ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے: میں نے اپنی شادی کے سلسلے میں اجتماعِ ذکرونعت کا اہتمام کیا تو حاجی مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیکودعوت پیش کردی۔ میں آپ کی مصروفیات سے واقف تھا اس لیے اِصْرار بھی نہ کیا اور یونہی سرِراہ چلتے ہوئے باتوں باتوں میں دعوت دیتے ہوئے رخصت ہوگیا۔ حاجی مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیچونکہ مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ مصروف تھے، اس لیے میں نے خاص انتظار بھی نہ کیا۔ ہمارے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع