30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ کےعمل سےکسی مسلمان کی دل آزاری ہوئی ہے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خو د بڑھ کر اس سے مَعذرت فرمالیا کرتے۔چنانچہ رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ حاجی ابورضامحمد علی عطاری کا بیان ہے کہ جن دنوں حاجی مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ مرکزی مجلسِ شوری کے نگران تھے اور جامع مسجد کنزُالایمان میں امامت فرمایاکرتے تھے، انہی دنوں زم زم نگر(حیدرآباد)بابُ الاسلام سندھ سے ایک اسلامی بھائی بغیر اطلاع دئیے حاجی محمدمشتاق عطاریرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے ملنے جامع مسجد کنزالایمان پہنچے ۔نماز کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ان سے سلام و مصافحہ کیا۔جلدی میں ان کی بات سُنی اور پہلے سے طے شُدہ مدنی مشورے یا کسی مدنی کام کے لیے تشریف لے گئے۔مدنی کام سے فارغ ہو کر حاجی مشتاق عطاریرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھے فون کرکے فرمایا: آپ کے علاقے کے فُلاں نام کے اسلامی بھائی ملاقات کے لیے تشریف لائے تھے، میں انہیں زیادہ وقت نہیں دے پایا، کہیں ان کا دل نہ ٹوٹ گیاہو، انہیں تکلیف نہ پہنچی ہو،ان کی دل آزاری نہ ہوگئی ہو، مجھے اس بات كا بہت دکھ ہے،آپ ان سے ملاقات کر کے میری طرف سے معافی مانگ لیجئے گا، ان کی دل جوئی فرمائیے گااور ممکن ہو تو انہیں کوئی تحفہ بھی پیش کیجئے گا۔اور ان کا جو بھی کام یا مشکل و پریشانی ہو،آپ سن لیجئے گا اگر آپ سے ممکن ہو تو حل فرما دیجئے گا، میرے لائق کوئی کام ہو تو مجھے ارشاد فرمائیے گا۔میں حیران ہو گیا کہ یہ اسلامی بھائی کوئی تنظیمی ذمہ دار بھی نہ تھے، اس کے باوجود حاجی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع