30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شوقِ مُطَالَعہ
بلبلِ مدینہ حاجی مشتاق عطاریرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو مُطَالَعہ اور طلبِ علمِ دین سے بہت شَغَف تھا۔ حصولِ علمِ دین کا کوئی موقع ضائع نہ کرتے۔یہاں تک کہ اَذان و اِقامت کےدرمیانی وقت میں بھی مُطَالَعہ میں مصروف رہتے۔ ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُبَاب ہے: مجھے اکثر جامع مسجد کنزُالایمان میں حاجی مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کی اِقتداء میں نماز کی سعادت ملتی رہتی تھی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہعلمِ دین کے بہت شیدائی تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاکثر خود اذان دیتے سنّتِ قبلیہ ادا فرماتے اور کتاب اٹھا کر مُطَالَعہ میں مصروف ہوجاتے۔
عَلالَت کے باوجود طلبِ علمِ دین
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو مُطَالَعہ کا کس قدر شوق تھا، اس کا اندازہ اس واقعے سے لگائیے چنانچہ جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکینسر کےباعث ہسپتال میں زیرِعلاج تھے۔ ايك اسلامی بھائی کا بیان ہے میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے وصال سے دو دن قبل عِیادت کے لیے حاضر ہوا تو حاجی مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرمانے لگے: فُلاں بزرگ کا کہیں تذکرہ ملتا ہے تو بتائیے۔ میں نے عرض کی:اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے متعلق کل عرض کروں گا۔ چنانچہ جب دوسرے دن حاضر ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمیرے کچھ کہنے سے پہلے ہی گویا ہوئے: ”میں نے آپ سے جو سوال کیا تھا، اس کے متعلق ایک اسلامی بھائی سے ایک کتاب مل گئی تھی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع