30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں۔ انہی کا بیان ہے کہ جن دنوں میں بابُ المدینہ (کراچی) کے ایک کالج میں تعلیم حاصل کرتا تھا اس وقت میں نمازِ جمعہ حاجی مشتاق عطاریرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی امامت میں ادا کرنے کے لیے جامع مسجد کنزالایمان جایا کرتا تھا۔اس لیے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نماز کے بعد انتہائی ملنساری ،خندہ پیشانی اور حُسنِ اخلاق سے ملاقات فرمایا کرتے تھے۔
خوف ِخدا کا انداز
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!انسان کے نفس کو ہزاروں برائیوں اور لاکھوں خامیوں سے بچانے میں سب سے بڑا کردار خوفِ خدا کا ہے ۔جس کے دل میں خوفِ خدا رچ بس جاتا ہے اس کا ظاہر اللہ عَزَّ وَجَلَّکے احکامات کے تابع ہوجاتا ہے اور اس کی برکت سے مخلوق ِ خدا س کے تابع ہوجاتی ہے ۔حاجی مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے دل میں کیسا خوفِ خدا تھا چنانچہ رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ حاجی فاروق جیلانی عطاری کا بیان ہے کہ میں شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ساتھ چل مدینہ کے قافلے میں حاضر تھا۔ایک دن سبھی اسلامی بھائی مسجدِ نبوی شریف عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صحن میں حاضر تھے کہ حاجی مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے زمین پر رینگنے والے ایک ٹڈّے کو آہستگی سے ہاتھ میں اُٹھایااور یہ کلام پڑھنا شروع کر دیا:”کاش میں اس دنیا کا نہ بشر بنا ہوتا ۔“دیکھتے ہی دیکھتے اسلامی بھائیوں کی آنکھیں خوفِ خدا سے تر ہو گئیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع