30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیفیت میں بھی آپ بستر سے اُترکر دیوار کا سہارا لیتے ہوئے والدہ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور قدم بوسی فرماتے ۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی والدہ آپ سے بے حد محبت فرماتیں بارہا فرماتیں :”میرا مشتاق لاکھوں میں ایک ہے ۔“
علماکا خوب ادب فرماتے
حاجی مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو جس طرح حصول ِعلم دین کا ذوق و شوق تھا اسی طرح آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہعلماءِ اہلسنت کا بھی بے حد ادب و احترام فرماتے اور اپنے مدنی منوں کو بھی اس کی تربیت دیتے۔ایک بار حاجی مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے مدنی منوں کے ساتھ خطیبِ پاکستان حضرت علامہ محمدشفیع اوکاڑوی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے عرس میں شریک تھے۔منچ پر جونہی شیخ القرآن حضرت علامہ غلام علی اوکاڑوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تشریف لائے تو آپ اپنے مدنی مُنّوں سمیت ان کی تعظیم کے لیے نہ صرف کھڑے ہو گئے بلکہ آگے بڑھ کر خود بھی دست بوسی کی اور دونوں مدنی منوں سے بھی دست بوسی کروائی۔ اجتماع کے اختتام تک حاجی مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہنے اس بات کا خیال رکھا کہ حضرت علامہ غلام علی اوکاڑوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو پیٹھ نہ ہو ۔اسی طرح دیگر محافل میں بھی حتی الامکان اس بات کا خیال فرماتے کہ کسی سُنّی عالمِ دین کو پیٹھ نہ ہو۔
| مجھ کو اے عطّارؔ سُنّی عالِموں سے پیار ہے |
| اِن شآءَ اللّٰہ دوجہاں میں میرا بیڑا پار ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع