30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیے مکہ و مدینہ زَادَہُمَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعظِیماً کا قصد کیا تو میں حاجی مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکی والدہ ماجدہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ آپ نے پردے میں رہ کر فرمایا: بیٹا! ممکن ہے کہ تمہاری واپسی تک میں نہ رہوں لیکن چونکہ تم مدینہ شریف جا رہے ہو،اس لیے ایک ایسا تحفہ دیتی ہوں، جو میرے بیٹے (حاجی مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی) کی ایک خاص نشانی ہے،میں نے اسےبہت سنبھال کر رکھا ہے۔ یہ فرما کر آپ نے ایک شیلڈ عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا:یہ میرے بیٹے مشتاق کو اسکول کے دوران نعتیہ مقابلےمیں انعام کے طور پر ملی تھی۔اسلامی بھائی کا بیان ہے :میں جب مدینہ شریف کی حاضری کے بعد واپس لوٹا تو حاجی مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی والدہ محترمہ اپنے کہنے کے مطابق اس دارِفانی سے پردہ فرما چکی تھیں۔
ابتدائی تعلیم
واقعی اچھے ماحول اور والدین کی نیک تربیت کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ حاجی مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی بھی بچپن ہی سے نیک ماحول میں زیرِ تربیت رہے ۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ خوش اَخلاق ،مِلَنْسار اور ہر دلعزیز شخصیت کے مالک تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خوش اِلحان قاری اور نعت خواں بھی تھے۔محافل میں جاتے تو خودہی تلاوت، نعت ، بیان اور دعا کی ذمّہ داری نبھا لیتے۔ حصولِ علمِ دین کے لیےباقاعدہ جامعۃ المدینہ میں داخلہ لیا لیکن بہت زیادہ تنظیمی مصروفیات کی وجہ سے سلسلۂ تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔شیخِ طریقت،امیرِِ اہلسنّت،بانِی دعوتِ اسلامی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع