30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور تعظیماً کھڑے ہو کر بات کرتے ۔
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے گھر والوں کابیان ہے کہ بیماری کے دوران بھی جب کبھی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا فون آیا تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے کھڑے ہو کر ہی بات کی۔
آخری دم تک بحیثیت مرید ہی رہے
حاجی مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جس طرح عوام میں شہرت رکھتے تھےاسی طرح علماء کرام میں بھی آپ کو اخلاق و کردار اور دیگر اوصاف کی بناء پر خصوصی مقام حاصل تھا ،ان تمام خصوصیات کے باوجود آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ہمیشہ اسی چشمۂ فیض امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی جانب راہنمائی فرمائی،جس کی بدولت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو عروج حاصل ہوا تھا ۔حاجی مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی سیرت کے اس پہلو میں یہ مدنی پھول ہے کہ شہرت کی بلند ی پر پہنچ کر مُرید اپنے پر وں پر اعتماد نہ کرے بلکہ اسے اپنا کمال سمجھنے کے بجائے فیضانِ مرشد ہی سمجھے کیوں کہ کامیابی سے ہمکنار کرنے میں مُرشد کی نظر اور صحبت کا کردار سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ بات ذہن نشین کرلیجیے کہ صحبتِ مُرشِد مُرید کے لیے ”سایہ اور آئینہ “ہوتی ہے کیوں کہ مرشد کی صحبت بیرونی آفتوں کی تیزدھوپ سے بچا کر سایہ فراہم کرتی ہے اور اس کی ظاہری و باطنی خامیاں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع