30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہی ہے۔جس مُرید نے اپنے مُرشِد سے کامل مَحبت نہ رکھی ۔بایں طور کہ مرشِد کو اپنی تمام خواہشات پر ترجیح نہ دی تو وہ مُرید اس راہ میں کامیاب نہ ہوگا۔کیونکہ مرشِد کی مَحبت کی مثال سیڑھی کی سی ہے۔ مُرید اس کے ذریعے ہی سے چڑھ کر اللہ تعالی کی بارگاہ عالیہ کو پہنچتا ہےاور جس نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جو کہ بندوں کو حق سے ملا دینے والے ہیں ۔ اگر اُن سے مَحبت نہ رکھی تو وہ منافق جَہنَّم کے نچلے طبقے میں ہوگا۔“
مرشِد کے سائے کا بھی ادب
مُرشِد کے ادب کی بات آئے اور حاجی مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیکا تذکرہ نہ آئےتو شاید یہ باب ادھورا رہ جائے۔ ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے پیرومرشد امیرِ اہلسنّت کی بہت تعظیم کرتے تھے۔ جب سے بیعت ہوئے تھے حتی الامکان مرشِدِکریم کو کبھی پیٹھ نہ ہونے دی اور اگر ساتھ چل رہے ہوتے تو امیرِاہلسنّت کے سایہ پر بھی پاؤ ں نہ پڑنے دیتے۔ رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ حاجی ابورضامحمد علی عطاری کے بیان کا خلاصہ ہے:حاجی مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی امیرِ اہلسنّت سے والہانہ محبت اور آپ کا ادب لائقِ تقلید ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اجتماعات میں نعت شریف پڑھتے ہوئے، اس اندازمیں کھڑے ہوتے کہ اگر امیرِ اہلسنّت تشریف لے آئیں تو انہیں پیٹھ نہ ہو اور ہم نے کئی موقعوں پر یہ بھی دیکھا کہ حاجی مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ منچ پر نعت شریف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع