30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{ 4} روزگار کیسے ملا؟
باب المدینہ (کراچی) کے مقیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی بَرَکت سے میری مرجھائی ہوئی زندگی مدینے کے سدا بہار پھولوں کی مانند مسکرانے لگی میں جب تک اس ماحول سے دور تھا میرے شب وروزبڑی مشکلات اور پریشانیوں میں بسر ہورہے تھے ، ہواکچھ اس طرح تھاکہ میں بہت زیادہ بیمار اوربے روزگار ہوگیاتھا۔جس کی وجہ سے میری پریشانیوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا تھا یقینا ہرحَسَّاس شخص میری اس کیفیت کو سمجھ سکتا ہے کہ میں کس قدرذہنی دباؤکا شکارہو چکا تھا۔پھرمجھ گنہگار پر اللہ تعالیٰ کا کچھ ایساکرم ہوا کہ ایک دن دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائی سے میری ملاقات ہوگئی ۔دورانِ گفتگو میں نے انھیں اپنی ساری داستان سنائی جس پر انھوں نے مجھے تسلّی دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ آپ عاشقانِ رسول کے ہمراہ مدنی ماحول میں اعتکاف کریں اور اس میں اپنے لیے دعائیں بھی کریں ، اِن شآء اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے ، اس اسلامی بھائی کے ان الفاظ نے میری ہمّت بندھائی ، چنانچہ میں بڑی امید لئے دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کی پُر بہار فضاؤں میں پہنچ گیااور سبز سبز عماموں کے تاج سجائے سفید مدنی لباس زیب تن کئے سنّتوں کے پیکر اسلامی بھائیوں کے ہمراہ معتکف ہوگیا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّجَلَّ میں نے سنّتوں بھرے اجتماعی اعتکاف کی سعادت کیا حاصل کی میری توزندگی ہی سنور گئی۔ صحت بھی ملی اور اعتکاف کے بعد جیسے ہی گھر گیا چند دنوں میں میری نوکری لگ گئی۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{ 5} میرے اُجڑے گلشن میں بہارآگئی
مرکزالاولیاء (لاہور، پنجاب، پاکستان) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل میں ایک بینک میں نوکری کرتا تھا ۔رمضانُ المبارک میں بینک سے ظہر کی نماز کے بعدچھٹی ہو جاتی تھی ، یوں عصر کی نماز میں اپنے علاقے کی مسجد میں ادا کیا کرتا تھا جہا ں نماز کے بعد ایک اسلامی بھائی درسِ فیضانِ سنّت دیا کرتے تھے۔میں بھی درس میں شرکت کیا کرتامگر درس کے بعد بغیر ملاقات کئے پیچھے سے اٹھ کر چلا جاتا تھا ۔ایک دن نجانے کیامیرے دل میں آئی کہ میں نے خود ہی درس کے بعدآگے بڑھ کر ان اسلامی بھائی سے ملاقات کی۔چونکہ وہ اسلامی بھائی میرے بڑے بھائی کے ساتھ پڑھتے تھے جس کی وجہ سے میں انہیں تھوڑا بہت جانتا تھااور انہوں نے بھی مجھے بڑے بھائی کا حوالہ دے کر اپنے پاس بٹھا لیا۔دورانِ گفتگو انھوں نے مجھے مختصر سے وقت میں رمضان المبارک کے آخری عشرے میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے تربیتی اعتکاف کی دعوت پیش کی تو میں نے عرض کی کہ مجھے اعتکاف میں بیٹھنے کا تو بہت شوق ہے مگر میرے اِنٹرکے امتحان کے کچھ پرچے رہ گئے ہیں جن کی مجھے تیاری کرنی ہے اور میں بینک میں نوکری بھی کرتاہوں۔نیکی کی دعوت عام کرنے کے جذبے سے سر شار اسلامی بھائی نے محبت بھرے انداز میں مجھ پرانفرادی کوشش جاری رکھی ۔ان کی پُر اثر باتیں تاثیر کا تیر بن کر میرے دل میں پیوست ہوتی گئیں اورمیں نے اعتکاف میں بیٹھنے کے لیے ہامی بھرلی اوریوں رمضان المبارک کے آخری عشرے میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ معتکف ہو گیا۔ ابتداً تومجھے کچھ آزمائش کا سامنا ہواکیونکہ میں نے اس سے پہلے کبھی اعتکاف نہیں کیا تھا لیکن بعد میں حلقوں میں سکھائے جانے والے نماز، وضو، غسل وغیرہ کے فرائض ومسائل نیزمبلِّغین اسلامی بھائیوں کے سنّتوں بھرے بیانا ت اورافطار کے وقت مانگی جانی والی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع