30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ڈیرہ اللہ یار (صوبہ بلوچستان) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خُلاصہ ہے کہ مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں گناہوں کی دَلدَل میں غرق تھا۔فلمیں ڈرامے دیکھنا، بدنگاہی کرنا میرے دل پسند مشاغل تھے۔اس کے علاوہ نجانے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی کیسی کیسی نافرمانیاں مجھ سے سرزد ہوتی تھیں لیکن مجال ہے کہ کبھی دل میں گناہوں کی کیچڑ سے باہر آنے کا خیال بھی آیا ہو۔میری اس خزاں رسیدہ اور عصیاں بھری زندگی میں کچھ اس طرح بہارآئی کہ میں دعوتِ اسلامی کے بارے میں جانتا تو تھا لیکن کبھی قریب سے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا، ایک روز یونہی دل میں خیال آیا کیوں نہ آج فیضانِ مدینہ میں جمعۃ المبارک کی نماز ادا کرلی جائے۔چنانچہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے فیضانِ مدینہ جا پہنچا۔نماز کے بعد کیا دیکھتا ہوں کہ عاشقانِ رسول اسلامی بھائی آپس میں مصافحہ و معانقہ کر رہے ہیں۔ہر ایک دوسرے سے بڑھ کر گرمجوشی سے ملاقات کر رہا تھا اور یہ منظر عید کا سماں پیش کر رہا تھا۔میں مجسمۂ حیرت بنا ایک جانب کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا کہ اتنے میں ایک سنّتوں کے پیکر اسلامی بھائی کے سلام کی آواز نے مجھے ورطۂ حیرت سے نکال لیا، سلام و مصافحے کے بعد انہوں نے بڑے مہذب انداز میں میرا نام پوچھا اور ساتھ ہی ساتھ اپنا تعارف بھی کروایا۔انہوں نے میری مصروفیات کے بارے میں جاننے کے بعد خیر خواہی فرماتے ہوئے موقع کی مناسبت سے مجھے رمضانُ المبارک کے آخری عشرے میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے سنتوں بھرے اعتکاف کی دعوت پیش کی۔ان کا حکمت بھرا انداز اور خیر خواہیٔ مسلمین سے معموراندازِ گفتار تاثیر کا تیر بن کر میرے دل کے آرپار ہو گیا۔خندہ پیشانی و ملنساری کی اس بے مثال ملاقات سے میں بہت متأثرہو ا اور وہیں کھڑے کھڑے عزمِ مصمّم کر لیاکہ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اعتکاف میں ضرور بیٹھوں گا چنانچہ دن گزرتے گئے پھر جب رمضان المبارک کی آمد ہوئی تو آخری عشرہ میں عاشقانِ رسول کے ساتھ اعتکاف کی پُربہار فضاؤں میں معتکف ہو گیا۔دورانِ اعتکاف مُبلّغین اسلامی بھائیوں کے سنّتوں بھرے اصلاحی بیانات ، پرُسوزمناجات، اور رِقّت انگیز دعاؤں سے میرے دل میں ایک ہلچل برپا ہو گئی۔میں اپنی زندگی کی بقیہ سانسوں کو غنیمت جانتے ہوئے گناہوں سے تائب ہو کردعوت ِاسلامی کے پاکیزہ مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ مدنی ماحول کی ایسی برکتیں ملیں کہ میری مرجھائی ہوئی زندگی موسم بہار کی طرح کھل اُٹھی۔جوں جوں میں مدنی ماحول کے رنگ میں رنگتا چلا گیا ، میرے کردار وگفتار میں مُثبت تبدیلیاں رونماہوتی گئیں۔میں نے سرپر عمامہ شریف کاتاج اور چہرے پر سنّت کے مطابق داڑھی مبارکہ سجالی اور نمازوں کی پابند ی شروع کردی یوں مجھ جیسا گنہگا ر انسان دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کے فیضان سے قبر و آخرت کی تیاری کرنے والے خوش نصیب مسلمانوں کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ اللہ تَعَالٰی کے فضل وکرم سے تادمِ تحریر جامعۃ المدینہ میں علم دین حاصل کر رہا ہوں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{ 3} وسوسوں کی کاٹ ہو گئی
بابُ المدینہ (کراچی ) کے علاقے گلشن حَدِیْدکے ایک رہائشی اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں بھی آج کل کے اکثر نوجوانوں کی طرح قبر و آخرت سے غافل ایک فیشن ایبل اور گناہوں کی دنیا میں مست رہنے والا لااُبالی قسم کا نوجوان تھا۔دینی ماحول سے دور ہونے کی وجہ سے سر کارصَلَّی اللہُ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی پیاری پیاری عظیم سنّتداڑھی شریف کی اہمیت سے بھی نا آشنا تھا۔ میری زندگی کے قیمتی لمحات یونہی فضولیات میں بسر ہورہے تھے کہ اچانک میرے سوئے مقدر جاگ اٹھے اورمیری سعادتوں کی معراج کا سفر شروع ہوگیا ، ہوا کچھ اس طرح کہ دعوتِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع