سُوال : اگر لڑکی والے لڑکے والوں سے کہیں کہ “ منگنی میں پانچ من مٹھائی لیکر آنا “ اور لڑکے والوں کی اتنی گنجائش نہ ہو تو وہ کیا کریں؟ (SMS کے ذَریعے سُوال)
جواب : کہیں کہیں ایسا ہے جیسے میمن برادری میں خرچے کی وجہ سے لڑکی والے آزمائش میں ہوتے ہیں اور بعض برادریوں میں لڑکے والے آزمائش میں ہوتے ہیں۔ بہرحال مٹھائی نہ تو پانچ من مانگی جائے اور نہ ہی پانچ کلوکیونکہ دینے والا اس وجہ سے دیتا ہے کہ اگر نہ دی تو شادی نہیں ہو گی یا یہ لوگ ہماری بچی یا بچے کو تکلیف دیں گے یا سامنے والے کے شر سے بچنا مقصود ہوتا ہے کہ نہ دینے کی صورت میں وہ ہمیں کنجوس کہیں گے ، طرح طرح کی باتیں کریں گے اور جھوٹ سچ ملاکر ہماری جگ ہنسائی کا سبب بنیں گے۔ یا د رَکھیے! اِس وجہ سے مٹھائی یا کوئی بھی چیز دینا رِشوت کہلائے گا۔ (فتاویٰ رضویہ ، 12 / 257-258ملخصاً) اور لینے والا گناہ گار ہو گا ، دینے والا چونکہ شر یا بُرائی سے بچنے یا اپنی عزت کی حفاظت کے لیے دے رہا ہے اس لیے اس پر گناہ گار ہونے کا حکم نہیں ہو گا۔
( فتاویٰ رضویہ ، 17 / 300 ماخوذاً ، ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت ، قسط : 95)
سُوال : شادی کارڈ پر کھانے کا جو وقت لکھا ہوتا ہے اس وقت کے مطابق کھانا نہیں کھلایا جاتا تو کیا یہ وقت لکھنا جھوٹ میں شمار ہو گا؟
جواب : لوگ ہی نہ آئیں تو کھانا کس کو کھلائیں؟عام طور پر لوگ وقت پر نہیں آتے جس کی وجہ سے کھانا لیٹ ہو جاتا ہے۔ لوگوں کا یہ ذہن بن گیا ہے کہ اگر کارڈ پر 10 بجے کا لکھا ہے تو کھانا 11 بجے سے پہلے شروع نہیں ہوگا لہٰذا اگر ہم لکھے ہوئے وقت کے حساب سے جائیں گے تو کافی دیر تک شادی ہال میں پھنسے رہیں گے تو یوں اَب لوگوں کی تاخیر سے آنے کی ایسی عادت بن گئی ہے کہ جس کی اِصلاح بہت مشکل ہے۔
سماجی اِدارے والے اگر اپنی اپنی کمیونٹی کے لوگوں کو سمجھائیں تو ہو سکتا ہے اس کا کچھ حل نکل آئےورنہ خالی قانون پاس کرنے سے کچھ نہیں ہوتاکیونکہ قانون صرف تحریر میں آجائے گا اور پھر بعد میں پتا بھی نہیں ہوگا کہ قانون بنا بھی تھا یا نہیں؟ بلکہ قانون بنانے والے خود بھی اسے بُھول جائیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ ایک مجلس اس کام کے لیے بنائی جائے اور وہ یہ سارے مُعاملات حل کرنے کی کوشش کرے جیسا کہ اگر اس ماہ ہماری برادری میں تین شادیاں ہیں تو یہ مجلس دولہا اور دلہن میں سے ہر فریق کے پاس جائے اور ان کو محبت سے سمجھا کر اس بات پر راضی کرے کہ دولہا اتنے بجے آجائے گااور دلہن والے بھی مجلس سے بولیں کہ آپ فکر نہ کریں ہمارا کھانا دُولہا والوں کے آنے سے پہلے ہی شادی ہال میں موجود ہو گااور ہم کھانے کا اِنتظار نہیں کروائیں گے۔ اِس طرح اگر کوئی سماجی اِدارہ آگے آئے گا تو اس کی دیکھا دیکھی دوسرے سماجی اِدارے بھی ایسا کرنے لگیں گے اور یوں نظام میں کچھ نہ کچھ بہتری آجائے گی۔ صِرف باتیں اور دیر دیر تک بحث و مباحثہ کرنے اور
زبردستی کی ہمدردیاں دِکھانے سے کچھ نہیں ہو گا۔ (ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت ، قسط : 95)
سُوال : ہمارے معاشرے میں یہ رواج بھی ہے کہ حج پر جانے والے کو قریبی رِشتہ داروں کے لیے تحائف کا بندوبست کرنا پڑتا ہے ، اِس بارے میں راہ نمائی فرما دیجئے ۔
جواب : بعض بے چارے حج کی اِستطاعت رکھنے کے باوجود بھی حج پر نہیں جا پاتے اس لیے کہ اُن کے پاس حج کا خرچہ تو ہوتا ہے مگر رواج کے مُطابق رِشتہ داروں کو تحائف دینے کے لیے خطیر رَقم نہیں ہوتی ۔ اگر حج کا خرچہ پانچ لاکھ ہے تو بطورِ مُبالغہ کہوں تو انہیں پندرہ لاکھ دَرکار ہوں گے کیونکہ نند کو یہ دینا ہے ، بھاوج کو وہ دینا ہے ، بیٹی کو یہ دینا ہے تو باپ کو وہ دینا ہے ۔ ماں اور ساس کو بھی فُلاں فُلاں تحفہ دینا ہے ۔ یوں اتنے سارے رواج اس ظالم معاشرے نے ڈال دیئے ہیں کہ لوگ اس ڈر سے حج پر نہیں جا پاتے کہ اگر حج کے لیے جائیں گے تو رَسم ورواج کے مُطابق رِشتہ داروں کو تحائف دینے پڑیں گے ورنہ وہ ناراض ہو جائیں گے اور باتیں بنائیں گے ۔ ظاہر ہے جو تحائف کا مُطالبہ کرتے ہیں وہ اچھے لوگ نہیں ہیں اور ان کے شر سے بچنے کے لیے جو کچھ انہیں دیا جائے گا وہ ان کے حق میں رِشوت ہے ۔ حج پر جانے والوں سے تحائف لینے کے بجائے خوشی خوشی یہ کہنا چاہیے کہ آپ حج کے لیے جائیں تو ہمیں کچھ مَت دینا اور اگر دینا ہی ہو تو آبِ زَم زَم کا تحفہ دے دینا۔ اگر آبِ زَم زَم کی بوتل بھی نہ دی تب بھی ہماری طرف سے کوئی ناراضی نہیں ہے۔ اگر ہر رِشتہ دار اس طرح کہہ دے تو تحائف کے بوجھ سے چھٹکارا ملنے کی وجہ سے حج پر جانے والے کے دِل سے دُعائیں نکلیں گی ۔
یاد رَکھیے !آبِ زَم زَم مانگنے کو کوئی بھی رِشوت نہیں کہے گا اس لیے کہ اس میں کوئی شر والا مُعاملہ ہی نہیں ہے کیونکہ یہ پانی ہے البتہ عجوہ کھجور لانے کو کہیں گے تو وہ مہنگی ہوتی
ہے ۔ حاجی قیمتی مُصلّے ، قیمتی تسبیحات ، عجوہ کھجوریں ، سوٹ پیس ، چاکلیٹ کے پیکٹ اور خُدا جانے کیا کیا لاتے ہیں تو ظاہر ہے اس طرح کی چیزیں عام طور پر بندہ واہ واہ کر کے نہیں “ آہ آہ “ کر کے دیتا ہے ۔
(ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت ، قسط : 54)