سُوال : جہیز مَرد یا عورت میں سے کس کی مِلک ہوتا ہے؟
جواب : لڑکی کو جو سامان میکے کی طرف سے بطورِ جہیز دیا جاتا ہے وہ لڑکی کی ہی ملکیت ہوتا ہے اور طلاق کے بعد اسے جہیز کا سامان واپس لینے کا پورا حق ہے بلکہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو وہ سامان اِستعمال کرنے کی بھی اِجازت نہیں۔اور جہاں تک شوہر اور اس کے گھروالوں کی جانب سے دیا جانے والا سامان اور زیورات وغیرہ ہیں تو ان کی تین صورتیں ہیں:
(1)شوہر یا اس کے گھروالوں نے صراحتا لڑکی کو سامان اور زیورات کا مالک بنایا تھا اور قبضہ بھی دیا تھا۔(2)شوہر یا اس کے گھر والوں نے صراحتا لڑکی کو سامان اور زیورات عاریتا یعنی فقط استعمال کے لئے دئیے تھے۔ (3)شوہر یا اس کے گھروالوں نےلڑکی کو سامان اور زیورات دیتے وقت کچھ بھی نہیں کہا تھا۔پہلی صورت میں عورت سامان اور زیورات کےہبہ کی وجہ سے اس کی مالک بن جاتی ہے اور یہ ان چیزوں کا مطالبہ بھی کر سکتی ہے،دوسری صورت میںجس نےوہ چیزیں دی ہیں وہی اس کا مالک ہے اور تیسری صورت میں شوہر کے خاندان کے رَواج کو دیکھا جائے
گا اگر وہ عورت کو ان اشیاء کا مالک بنا دیتے ہیں تو یہ چیزیں لڑکی کی ہیں اور اگر مالک نہیں بناتے تو یہ دینے والے ہی کی ہیں۔ اِسی بارےمیں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ اِرشاد فرماتے ہیں:جہیز تو سب عورت کا ہے اس میں کسی کا حق نہیں۔اور چڑھاوے کا اگر عورت کو مالک کر دیا گیا تھا خواہ صَراحۃ کہہ دیا تھا کہ ہم نے اس کا تجھے مالک کیا یا وہاں کے رَسم و عُرف سےثابت ہو کہ تملیک ہی کے طور پر دیتے ہیں جب تو وہ بھی عورت کی ملک ہے ورنہ جس نے چڑھایا اس کی ملک ہے۔ (فتاویٰ رضویہ،12 /259- 260 ) (فیضانِ مدنی مذاکرہ ، قسط 17 )
سُوال : زوجہ فوت ہو جائے تو کیا سارا جہیز شوہر رکھ سکتا ہے یا نہیں؟
جواب : زوجہ فوت ہو جائے تو شوہر یا کوئی اور اس کے جہیز وغیرہ کا تنہا مالِک یا حقدار نہیں ہو سکتا بلکہ وہ سارا سامان جو عورت کی ذاتی ملکیت تھا ، اس کے مرنے کے بعد شرعی قانون کے مطابق وُرَثا میں تقسیم ہو گا جیسا کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِ سنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : جہیز ہمارے بِلاد(یعنی شہروں) کے عُرفِ عام شائع سے خاص مِلکِ زوجہ ہوتا ہے جس میں شوہر کا کچھ حق نہیں ، طلاق ہوئی تو کُل لے گی اور مَر گئی تو اسی کے وُرَثا پر تقسیم ہو گا ۔ ( فتاویٰ رضویہ ، 12 / 203)(ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت ، قسط : 17)
سُوال : بعض جگہ یہ رَواج ہے کہ جہىز مىں دیئے گئے سامان کو باقاعدہ سجا کر مہمانوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، بعض جگہ ایک شخص کھڑے ہو کر اِعلان بھی کر رہا ہوتا ہے کہ ىہ سونے کا سیٹ اتنے تولے کا ہے ، ایسا کرنا کیسا ؟
جواب : جہیز کی نُمائش کرنے میں کوئی شَرعی ممانعت تو نظر نہیں آتی اَلبتہ اس مىں اَخلاقی اور مُعاشرتی خَرابىاں ضَرور ہىں ۔ مُعاشرے میں نمود ونمائش کا شوق اس قدر سِرایت کر چکا ہے کہ مسجد مىں چندہ دىتے وقت بھی خواہش کی جاتی ہے کہ نام لے کر دُعا کی جائے تاکہ لوگوں کو بھی پتا چل جائے کہ مابدولت نے مسجد کو چندہ دینے کا اِحسان کیا ہے ۔
(ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت ، قسط : 12)
سُوال : آج کل بعض جگہوں پر جہىز کی نمائش کی جاتی ہے ، لوگوں کو جہیز دِکھانے کا باقاعدہ اِہتمام کیا جاتا ہے ، کیا ایسا کرنے میں ىتىم اور غریب بچىوں کى دِل آزارى نہىں ہے؟
جواب : جہیز کی نمائش کرنے کو دِل آزارى نہىں کہہ سکتے۔ اگر ایسا ہو تو پھر بلڈنگ بنانا بھى دِل آزاری کا سبب ہو گا کہ جھگى میں رہنے والے کا دِل دُکھے گا بلکہ جھگى بنانا بھى منع ہو جائے گا کہ جو فٹ پاتھ پر پڑے ہىں ، جن کے پاس جھگی بھی نہیں ان کا دِل ٹوٹ جائے گا ، تو یُوں دُنىا کا نِظام ہى رُک جائے گا ، لہٰذا اگر کسی نے اللہ پاک کی رضا کے لیے دِل جوئى اور دِیگر اچھی نیتوں کے ساتھ اچھا جہىز دىا ، واہ وا ہ اور حُبِّ جاہ مقصود نہیں ہے اور وہ چار آدمىوں کو جہیز دِکھا بھی دیتا ہے تو اس پر کسى کى دِل آزارى کا حکم لگانا سمجھ مىں نہىں آ رہا۔ البتہ اس سے بچنا بہتر ہے ۔ (ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت ، قسط : 31)
سُوال : بہن کو جہىز مىں کون سى کتاب دى جائے ؟
جواب : سبحانَ اللہ!بہن کو جہىز مىں تفسیر “ صِراطُ الجنان “ کى 10جِلدىں دے دیجیے۔
قرآنِ کرىم کى تفسىر گھر مىں رکھی رہے گی جب بھى بَرکتىں لُٹاتى رہے گی۔ اس مىں اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِ سنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ کا ترجَمۂ قرآن کنزالاىمان بھى ہے۔ اگر خرچہ کم کرنا چاہىں تو پھر بہارِ شرىعت دی جا سکتی ہے یا پھر ترجَمۂ قرآن کنزالاىمان مَع خزائنُ العرفان اىک ہى جِلد مىں ہے یہ دىا جاسکتا ہے۔ فىضانِ سُنَّت جلد اَوَّل اور اس کے دِىگر اَبواب مثلاً غىبت کى تباہ کارىاں ، نىکى کى دعوت ىہ پورا سىٹ بھى دىا جاسکتا ہے۔ جتنی کتب کا مىں نے عرض کىا ىہ سارے سىٹ بھى جہیز میں دىئے جا سکتے ہىں۔ لوگ لاکھوں کروڑوں روپے شادىوں پر خرچ کرتے ہىں اور سونے کا ڈھىر لگا دىتے ہىں ، اگر نیکىوں کا ڈھىر لگانے والے اَسباب بھى چند ہزار روپے خرچ کرکے دے دىئے جائىں تو مدىنہ مدىنہ ۔ گھر میں دِینی کتابیں ہوں گی تو کبھی نہ کبھی کوئى تو کھول کر دىکھے گا کہ یہ کىا ہے؟ آنے والى نسلىں دىکھىں گى کہ ىہ کىا ہے؟ گھر کے دِىگر اَفراد دیکھىں گے کہ ىہ کىا ہے؟ لہٰذا جہىز مىں دِىنى کتابىں دىنى چاہئیں۔
(ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت ، قسط : 30)
سُوال : شادی میں بہت سے لوگ قیمتی اور مہنگے گلدستے تحفے میں دیتے ہیں ، کیا یہ دُرُست ہے؟ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت )
جواب : شادى کے موقع پر جو اُلٹے سىدھے طرح طرح کے Gifts(تحائف) دیئے جاتے ہىں تو وہ کسى کام کے نہىں ہوتے۔ مثلاً عام طور پر شادیوں میں شوپىس دىتے ہىں یا ایسے قیمتی گلدستے دىتے ہىں جن مىں عام طور پر خوشبو نہىں ہوتى تو ایسے گلدستے دینا جائز ہے ، یُوں ہی ایسے شوپىس دینا بھی جائز ہے جن مىں جاندار کا پُتلا نہ ہو لىکن ایسی چیزوں کے فَوائد کم ہىں۔ اب گلدستے کو بندہ کىا کرے گا؟مثلاً حاجی عبید رضا کو کسى نے قیمتی گلدستہ آ کر دىا ، اب حاجى عبید رضا نے اسے کىا کرنا ہے؟جَزاکَ اللہ کہہ کر رکھ لىنا ہے اور پھر کسى کو پکڑا دىنا ہے۔ اگر
کچھ دىنا ہى تھا تو اس کى جگہ کوئى دِىنى کتاب دے دىتے۔ اگر کوئى عمامہ پہنتا ہے تو اس کو سوٹ پِیس اور عمامہ دے دىتے ، سُنَّت کے مُطابق پہنتا رہے گا اور نمازىں پڑھتا رہے گا۔ دعوتِ اسلامى کے مکتبۃ المدینہ میں ہزاروں دِىنى کتابیں ہىں ، ان مىں سے کوئى کتاب حسبِ توفىق خرید کر کے تحفے میں دے دی جائے۔ اگر شادى کے گفٹ کے طور پر کوئی کتاب دینی ہے تو اس پر لکھ بھی دىں کہ فُلاں کى شادى کے موقع پر تحفہ ، یا شادی مُبارَک۔ اگر شادى مُبارَک وغیرہ لکھ کر کتاب دیں گے تو اُمّید ہے کہ وہ ىادگار کے طور پر سنبھال کر رکھے اور پڑھے ۔ اگر دُولہا پہلے سے دینی ماحول میں ہے تب بھى کتاب تحفے میں دیں کہ گھر مىں کوئى تو پڑھے گا ۔ مسلمانوں کے گھر مىں دِىنى کتاب جائے گى تو کسی قسم کا نقصان نہىں پہنچائے گى بلکہ اِن شاءَ اللہ الکریم کچھ نہ کچھ کما کر دے گى۔ (ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت ، قسط : 30)
جب رشتہ طے کرنا ہو تا ہے تو فریقین میٹھے میٹھے بن کر ترکیب بنالیتے ہیں ، مگر اِس دَوران بھی اور بعد میں تو اکثر غیبتوں کا سلسلہ رہتا ہے اس کی 17مثالیں مُلاحَظہ ہوں : *بے مُروَّت لوگ ہیں* گھر آکر دعوت دینی چاہے تھی* صرف کہلوا دیایا *فون سے ہی گزارہ کر لیا* ساس نے کسی کو بلانے کیلئے بھی نہیں بھیجا*ہم نے ان کو اپنے یہاں کیلئے زیادہ آدمیوں کو ساتھ لانے کی دعوت دی تھی مگر انہوں نے ہم کو بَہُت تھوڑے آدمیوں کی دعوت دی ہے*میں دعوت میں گیا تو سُسر نے مجھے خاص لفٹ نہیں دی * مجھے یہ تک نہیں بولا کہ “ اور کھاؤ “ *لڑکی والوں کی طرف سے بَہُت دن ہوئے کوئی دعوت نہیں ملی یہ کوئی طریقہ ہے!* کنجوس مکّھی چوس ہیں * کھانے کا صِرف پتیلا بھجوادیا دیگ آنی چاہے تھی*ساس کا دل بَہُت چھوٹا ہے * آم کی صِرف
ایک ہی پیٹی بھیجی اور* آم بھی بس ایسے ہی تھے *بڑے بھائی کیلئے گھڑی * باجی کیلئے سوٹ اور * امّی کیلئے چادر کی ترکیب تھی مگر ہر چیز گھٹیا پکڑائی وغیرہ وغیرہ ۔ ان میں بعض تو وہ غیبتیں ہیں جن کو شاید “ چوری اور سینہ زوری “ کہیں تب بھی غَلَط نہیں کیوں کہ اوّل تو جن چیزوں کے گِلے شکوے ہو رہے ہیں ان کے اندر اکثر رشوت کی بھیانک آفت بھی شامل ہے۔ مَثَلاً یہ مطالَبات کرنا کہ لڑکے کے بھائی اور والدین کو لڑکی والے یہ یہ چیزیں دیں گے تو ہی ہم رشتہ کریں گے تو یہ “ رشوت “ ہوئی۔ لڑکی والے اگر تحائف نہیں دیتے تو لڑکے والا فریق طعنے مِہنے دیتا ہے لہٰذا اپنی لڑکی کو سُسرال والوں کے شر سے بچانے کیلئے آم کی پیٹیاں اور کھانے کے پتیلے وغیرہ پیش کئے جاتے ہیں۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مولانا شاہ امام اَحمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : “ رِشوت وہ ہے جوبعض قوموں میں رائج ہے کہ اپنی بیٹی یا بہن کا رِشتہ کسی سے اُس وَقت تک نہیں کرتے جب تک خاطِب(یعنی نکاح کا پیغام دینے والے)سے اپنے لئے کوئی چیز حاصِل نہ کرلیں ، نیز رِشوت وہ ہے کہ کوئی شخص اپنے زَیر وِلایت(یعنی زیرِ سرپرستی)لڑکی کا رِشتہ تو کر دے مگر اپنے لئے کچھ لئے بِغیر وہ لڑکی شوہَر کے حوالے نہ کرے۔ “ (فتاوٰی رضویہ ، 12 / 257) یاد رکھئے !رشوت حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے چُنانچِہ حدیثِ پاک میں ہے : اَلرَّاشِیْ وَالْمُرْتَشِیْ فِی النَّارِ۔ یعنی رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنَّمی ہیں۔ (معجم ا وسط ، 1 / 550 ، حدیث : 2026)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جس نے رِشوتیں لی ہوں ، اب نادِم ہے تو صِرف زَبانی توبہ کافی نہیں ، توبہ کے ساتھ ساتھ ساری رِشوتیں اُن کو لوٹانا ہوں گی جن جن سے لی ہیں ، وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارِثوں کو دے ، ان کا بھی پتانہ لگے تو فقیر کو دیدے۔ رِشوت کی مزید معلومات کیلئے فیضانِ سنَّت جلد اوّل صَفْحَہ 540تا 554 کا مُطالَعہ فرما لیجئے۔