30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بعض احادیث میں آیا ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فجر کی نماز غلس یعنی اندھیرے میں پڑھتے تھے۔ عورتیں نماز فجر میں حاضر ہوتی تھیں ۔ جب فارغ ہو کر گھروں میں جاتی تھیں تو بسبب اندھیرے کے پہچانی نہیں جاتی تھیں ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اندھیرا مسجد کے اندرونی حصہ میں ہوتا تھا نہ یہ کہ صحن میں بھی اندھیرا ہوتا تھا۔ اسفار کے وقت بھی مسجد کے اندرونی حصہ میں اندھیرا ہوا کرتا ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اتنا زیادہ اسفار نہ کرتے تھے کہ آفتاب کا طلوع قریب ہو جائے ۔ کیونکہ حدیث میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا اسفار میں نماز فجر پڑھنا ثابت ہے ۔ چنانچہ حضرت سیدنا بیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت سیدنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے عرض کیا کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی نماز کے اوقات بیان فرمائیے تو انہوں نے کہا کہ ظہر کی نماز زوال آفتاب کے بعد اور عصر کی نماز تمہارے ظہر و عصر کے درمیان پڑھا کرتے تھے ۔ اور مغرب کی نماز غروب آفتا ب کے وقت اور عشاء کی نماز غروب شفق ([1]) کے وقت ’’ وَ یُصَلِّي الْغَدَاۃَ عِنْدَ طُلُوْعِ الْفَجْرِ حِیْنَ یَفْسَحُ الْبَصَرُ ‘‘ اور فجر کی نماز طلوع صبح کے بعد پڑھتے تھے جب کہ نگاہ کھلنے لگے یعنی دور دور کی چیزیں نظر آنے لگیں ۔ اس حدیث کو ابو یعلیٰ نے روایت کیا ۔ اس کی سند حسن ہے (مجمع الزوائد)۔
اسی طرح ایک دوسری حدیث میں حضرت بیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا سَمِعْتُ أَنَسًا یَقُوْلُ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم یُصَلِّي الْصُّبْحَ حِیْنَ یَفْسَحُ الْبَصَرُ رَوَاہٗ الْاِمَامُ اَبُو مُحَمَّدِنِ الْقَاسِمِ بْنِ ثَابِتِ السَّرْخَسِیْ فِیْ کِتَابٍ غَرِیْبِ الْحَدِیْثِ۔ ([2])
ترجمہ : حضرت سیدنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ایسے وقت میں نماز پڑھتے تھے کہ نگاہ دور تک پہنچ سکے ۔ (ف)ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نماز صبح اسفار میں پڑھتے تھے ۔
طبرانی میں مجاہد سے راویت ہے وہ قیس بن سائب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کرتے ہیں :
کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم یُصَلِّیْ الْفَجْرَ حَتّٰی یَتَغَشَّی النُّوْرُ السَّمَائَ۔ ([3])
قیس کہتے ہیں کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اس وقت فجر پڑھتے تھے جبکہ آسمان میں روشنی پھیل جاتی تھی۔ اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ فجر کی نماز حضورعَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اسفار میں پڑھتے تھے ۔ پس یا تو احادیث فعلیہ([4]) میں تطبیق ([5]) کی جائیگی کہ اندھیرے سے مراد اندرونی حصہِ مسجد کا اندھیرا ہے یا یہ کہ اسفار اتنا زیادہ نہیں ہوتا تھا کہ آفتاب کا نکلنا قریب ہو جائے کمامر۔ یا غلس میں نماز پڑھنا بیان جواز کے لئے تھا یا احادیث فعلیہ میں بسبب متعارض ہونے کے کسی فریق کے لئے حجت نہ رہی اور احادیث قولیہ([6]) بلا معارض باقی رہیں ۔ تو لامحالہ احادیث قولیہ پر عمل ہوگا۔ علاوہ اس کے قول اور فعل میں جب تعارض ہو تو قول مقدم ہوتا ہے ۔ کَذَا قَالَ الشَّیْخُ عَبْدُ الْحَقُّ فِي اَشِعَۃِ الَّمْعَاتِ تو اس مسئلہ میں بھی احادیث قولیہ’’اَسْفِرُوْا بِالْفَجْرِ‘‘ اور ’’ نَوِّرْ یَا بِلاَلُ ‘‘حدیث عکس پر جوکہ فعلی ہے مقدم ہوں گی۔
حضرات ِصحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا :
علاوہ اس کے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے بھی اسفار ثابت ہے ۔ چنانچہ امام طحاوی نے بسند صحیح ابراہیم نخعی سے روایت کیا ہے ۔ انہوں نے کہا
مَا اجْتَمَعَ اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم عَلیٰ شَیْئٍ مَّا اجْتَمَعُوْا عَلَی الْتَّنْوِیْرِ یعنی رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے اصحاب کسی بات پر اس قدر متفق نہ ہوئے جس قدر اسفار فجر پر متفق ہوئے ([7]) ۔
حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ :
حضرت سیدنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ۔
قَالَ صَلّٰی بِنَا أَبُوْبَکْرٍ صَلوٰۃَ الْصُّبْحِ فَقَرَأَ اٰلَ عِمْرَانَ فَقَالُوْا کَادَتِ الْشَّمْسُ تَطْلَعُ قَالَ لَوْ طَلَعَتْ لَمْ تَجِدْنَا غَافِلِیْنَ رَوَاہٗ الْبَیْھَيْ فِي السُّنَنِ الْکُبْرٰی([8]) ۔ صحیح بہاری ص ۲۵۶۔
حضرت سیدنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی تو سورہ آل عمران پڑھی لوگوں نے (بعد فراغتِ نماز)کہا کہ آفتاب نکلنے کے قریب ہے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا اگر آفتاب نکل آتا تو ہمیں غافل نہ پاتا یعنی ہمیں نماز میں دیکھتا ۔ اس حدیث کو بہیقی نے سنن کبریٰ میں روایت کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نماز فجر اسفار میں پڑھا کرتے تھے ۔
[1] شفق اس روشنی کو کہتے ہیں جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے غربی کنارے پر ظاہر ہوتی ہے اور یہ دو طرح کی ہے سرخ اور سفید پہلے سرخ آتی ہے پھر سفید جب سفید غروب ہوجائے تو نماز عشاء کا وقت شروع ہوجاتا ہے ۔
[2] الدرایۃ فی تخریج الا حادیث ۱ / ۱۰۶۔
[3] مجمع الزوائد ۱ / ۳۰۵‘۔
[4] ایسی احادیث کہ جس میں حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے کسی کام کے کرنے کا ذکر ہو
[5] مطابقت ، دو متعارض رواتیوں میں مطابقت
[6] وہ احادیث کہ جس میں حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے کچھ فرمایا ہو۔
[7] شرح معانی الاثار باب وقت الفجر ۱ / ۱۰۹۔
[8] السنن الکبری للبیھقی ۱ ، ۳۷۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع