30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۹۔ اسی طرح جناز ہ میں سورئہ فاتحہ کا پڑھنا امام او ر مقتدی دونوں کے لئے بہ نیت قرائت درست نہیں اور بہ نیت دعا درست ہے ([1]) ۔
الحاصل ہر کام میں نیک نیت ہونا چاہیئے ۔ حضرت سیدنا مولانا روم نے مثنوی شریف میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک شخص نے مسجد کے پاس اپنا مکان بنوایا اور مسجد کی طرف ایک دریچہ ([2]) رکھا۔ اس کے پیر نے پو چھا کہ یہ دریچہ کس لئے رکھا ہے ۔ اس نے کہا کہ ہوا کے لئے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر یہ نیت کرتا کہ یہ دریچہ محض اس لئے رکھا کہ مسجد سے اذان کی آواز آجائے یا جماعت کے کھڑے ہونے کا علم ہوجایا کرے تو ہوا خود بخود آجایا کرتی اور تجھے اس کاثواب (بھی )ہوتا ۔
۱۰۔ اشعۃ اللمعات میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ احادیث میں آیا ہے کہ جب ملائکہ بندوں کے اعمال آسمان پر لے جاتے ہیں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے اَلْقِِ تِلْکَ الصَّحِیفَۃَ اَلْقِ تِلْکَ الْصَّحِیْفَۃَ اس صحیفہ کو ڈال(پھینک) دے ، اس صحیفہ کو ڈال دے ۔ وہ فِرشتہ عرض کرتا ہے کہ خدایا تیرے اس بندے نے نیک باتیں کیں نیک عمل کئے ہم نے سنا ، دیکھا اس کی نیکیوں کے دفتر میں لکھا ، اب اسے کس طرح ڈال دیں ۔ حکم ہوگا کہ لَمْ یَُرِدْ بِہٖ وَجْھِیْ کہ اس بندہ نے اس عمل کے ساتھ میری رِضا کا ارادہ نہیں کیا۔ یعنی اس کی نیت اس عمل میں میری رِضا نہ تھی۔ اس لئے میرے حضور میں مقبول نہیں ۔ اسی طرح ایک دوسرے فِرشتے کو حکم ہوگا اُکْتُبْ لِفُلاَنٍ کَذَا وَ کَذَا۔ فلاں بندہ کے اعمال نامہ میں فلاں فلاں نیک عمل لکھ دے ۔ فِرشتہ عرض کرے گا کہ خدایا اس نے تو یہ کام کیا نہیں تو کیسے لکھ دوں ۔ حکم ہوگا کہ اس نے نیت کی تھی۔ اس کا ارادہ کرنے کا تھا مگر اس سے نہ ہوسکا۔ ([3]) سبحان اﷲ دیکھئے نیت نیک کرنے سے بغیر کئے اعمال کا ثواب مل گیا اور بری نیت سے کئے ہوئے اعمال ضائع ہوئے ۔ اﷲ تعالیٰ سب مسلمانوں کو اخلاص کی توفیق دے ۔
(اٰمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)
حدیث {۲}
عَنْ مَعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أنّ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَہ‘ إِلَی الْیَمَنِ قَالَ کَیْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَکَ قَضَآئٌ قَالَ أَقْضِي بِکِتَابِ اﷲِ قَالَ فَإنْ لَّمْ تَجِدْ فِيْ کِتَابِ اﷲِ قَالَ فَبِِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اﷲُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإنْ لَّم تَجِدْ فِيْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اﷲُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَجْتَھِدُ رَأیِيْ وَلا اٰلُوْا قَالَ فَضَرَبَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ صَدْرِہٖ قَالَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اﷲِ لِمَا یَرْضٰی بِہٖ رَسُوْلُ اﷲ۔ رواہ الترمذی و أبو داؤد والدارمي ([4])
ترجمہ : -حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ جب ان کو رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے یمن کی طرف قاضی بناکر بھیجا تو فرمایا کہ جب تجھے کوئی معاملہ پیش آئے تو تُو کیسے فیصلہ کرے گا۔ حضرت سیدنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کیا کہ میں اﷲ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب کے ساتھ حکم کروں گا۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا اگر اﷲ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب میں تو اس کا حکم نہ پائے تو پھر کیا کرے گا۔ انہوں نے عرض کی کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی سنت کے ساتھ فیصلہ کروں گا۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا اگر تو رسول عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی سنت میں بھی اس حکم کو نہ پائے تو پھر کیا کرے گا ؟ انہوں نے عرض کی کہ میں اپنی عقل او ر رائے کے ساتھ اجتہاد کروں گا اور طلب ثواب میں کمی نہ کروں گا۔ حضرت سیّدنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں پھررسول کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا الحمد ﷲ عَزَّ وَجَلَّ کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جس کے ساتھ اﷲ تعالیٰ عَزَّ وَجَلَّکا رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم راضی ہے۔
۱۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ استخراج احکام میں قرآن مقدم ہے پھر حدیث ۔
۲۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن کو کھینچ تان کر حدیث کے تابع نہیں کرنا چاہیئے بلکہ حدیث کو قرآن کے تابع کرنا چاہیئے ۔ چنانچہ مسئلہ فاتحہ خلف الامام میں جوکہ مقلدین ([5]) اور غیرمقلدین ([6]) کا متنازعہ فیہ ([7]) مسئلہ ہے اس میں پہلے قرآن دیکھنا چاہیئے ۔ اﷲ تعالیٰ عَزَّ وَجَلَّ قرآن شریف میں فرماتا ہے :
وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۲۰۴)
ترجمۂ کنز الایمان : اور جب قرآن پڑھا جائے تو اُسے کان لگاکر سُنو اورخاموش رہو کہ تم پر رحم ہو ۔ (اعراف ۹ / ۲۰۴)
اور حدیث ([8]) میں آیا ہے اس کی نماز نہیں جو الحمد نہ پڑھے۔ اب ہمیں حدیث کو تابع قرآن سمجھنا چاہیئے کہ یہ حدیث امام اور منفرد کے لئے ہے مقتدی کیلئے نہیں ۔ اس طرح آیت اور حدیث میں تطبیق بھی ہوگئی اور مطلب بھی صاف ہوگیا ۔ لیکن اگر ہم آیت کو کھینچ تان کر یہ مطلب لیں کہ یہ آیت کافروں کے بارے میں ہے حالانکہ کسی حدیث میں اس کا نزول کفار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع