دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Arbaeen-e-Hanfiya | اربعین حنفیہ

book_icon
اربعین حنفیہ

ملے (جیسے کہ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص وضو کرکے مسجد میں جاوے اس کو حج و عمرہ کا ثواب ملتا ہے ) تو اس کو یہ ثواب بھی ملے گا([1])۔ پھر اس پر یہ نیت بھی کرے کہ مسجد میں علم کا افادہ یا استفادہ ہوگا یا امر معروف اور نہی منکر حاصل ہوگا تو اس ثواب کو بھی ضرور حاصل کرلے گا۔ پھر اگر یہ نیت بھی کرے کہ کوئی دینی بھائی مسجد میں ملے گا اس کی زیارت سے مستفیض ہوں گا تو یہ او ر اجر ہوگا۔ اسی طرح اگر نیت تفکر([2]) و مراقبہ ([3]) کی کرے کہ مسجد میں تنہا ہوکر دل کی جمعیت([4]) کے ساتھ مراقبہ کروں گا تو یہ اجر بھی پائے گا۔ الغرض جتنی نیتیں کرے گا سب کا ثواب پائے گا کیونکہ حدیث شریف کے الفاظ اِنَّمَا لِاِمْرِئٍ مَّا نَویٰ  کا یہی مطلب ہے کہ جو نیت کرے گا وہ پائے گا۔

۳۔ اسی طرح اگر کسی میت کے ساتھ کوئی شخص نقدی یا غلہ قبر پر لے جائے۔ اور اس کی نیت یہ ہو کہ قبر پر مساکین جمع مل سکتے ہیں ۔ نیز عام مساکین جنازے میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ میت کیلئے جو کچھ دیا جائے گا حق سبحانہ‘ و تعالیٰ اس کا ثواب اس میت کو ضرور پہنچائے گا۔ ہاں اگر اس کی نیت درست نہیں بلکہ محض دکھاوا مقصود ہے تو خواہ گھر کی کوٹھڑی میں بیٹھ کر خیرات کرے گا اس کا کچھ ثواب نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ نیت صحیح نہیں ۔ معلوم ہواکہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے ۔ اگر نیت خدا  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے اور ایصال ثواب ہے تو قبر پر لے جانے سے کوئی حرج واقعہ نہیں ہوتا اور اگر نیت میں ریا ہے تو گھر میں بھی کچھ نہیں ۔ لہٰذا مسلمانوں کو لازم ہے کہ ایسے امور میں نیت صحیح ہو ۔ نہ یہ کہ ایسے کام ہی چھوڑ دیں ۔

۴۔ اسی طرح میت کے بعد تیسرے یا ساتویں یا دسویں یا چالیسویں دن کھانا پکاکر مساکین کو کھلایاجائے([5]) ۔ اس میں بھی اگر وارثوں کی نیت یہ ہے کہ ان دنوں میں مساکین جمع ہوجاتے ہیں یا دوسرے خویش و اقارب([6])  آجاتے ہیں یا معیّن کرنے کے سبب کچھ نہ کچھ ادا ہوجاتا ہے نہ معیّن کرنے سے رہ جاتے ہیں تو معیّن کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ اگر نیت ہو کہ ان اوقات مخصوصہ میں کھانا کھلانا تو پہنچتا ہے آگے پیچھے کا ثواب نہیں پہنچتا۔ تو یہ نیت غلط ہے ۔ اس کی اصلاح کردینی چاہیئے کہ میّت کو جس روزکچھ ثواب پہنچانا چاہے پہنچتا ہے ۔ کھانا ہو یا نقدی یا قِرأتِ قرآن تخصیص ایام ([7]) کوئی ضروری نہیں ۔ اگر کوئی مصلحت ہو تو حرج بھی نہیں ۔ معلوم ہوا کہ نیت پر اعمال کا مدار ہے ۔ نیت ایصال ثواب ہے تو جس روز دے گا ثواب پہنچے گا۔ تیسرا دن ہو یا ساتواں یا دسواں ۔ اگر نیت ریا ہے تو سب کچھ بے کار ہے ۔

۵۔ اسی طرح اگرمیّت کے بعد لوگ بیٹھتے ہیں اور کلمہ پڑھتے ہیں ۔ ان کی نیت یہ ہوتی ہے کہ خالی چپ چاپ بیٹھنے سے بجز حقہ کشی ([8])اور واہیات([9]) فضول باتوں کے اور کوئی بات نہیں ہوتی۔ اگرکلمئہ طیّبہ جس کی نسبت حدیث شریف ([10])میں ’’اَفْضَلُ الذِّکْرِ ‘‘  آیا ہے پڑھتے رہیں تو یقینا موجب برکت ہے ۔ پھر اگر محض روایات کے مطابق ستّرہزاربارہوجائے اور میّت کو بخشا جائے تو امید مغفرت ہے ۔ تو کیا وجہ ہے کہ بموجبِ حدیث إنما لإمریٰ مانوی کلمہ پڑھنے والوں کو ان کی نیت کے مطابق ثواب نہ ملے ۔ جب حضو ر عَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  نے فرمایا ہے کہ اعمال کا مدار نیت پر ہے او ر ہرشخص کو وہی ملے گا جو اس نے نیت کی ۔ تو ضرور اجر ملے گا۔ پھر وہ میّت کو بخشیں گے تو ضرور میّت کو بھی پہنچے گا([11])۔

۶۔ اسی طرح مجلس میلاد کا کرنا اور جلوس نکالنا ہے ۔ تاکہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی شان ظاہر ہو اور اسلام کی عزّت و عظمت و ہیبت مخالفینِ اسلام کے دلوں میں جاگزیں ([12]) ہو۔ تو اسی حدیث کی روسے جائز ہے کہ اس کی نیت نیک ہے ۔

۷۔ اسی طرح ہر وہ کام جس کی ممانعت رسول کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے نہ فرمائی ہو نیک نیت کے ساتھ جائز اور کارِ ثواب ہے۔

۸۔ قرآن شریف جنابت کی حالت میں پڑھنا منع ہے لیکن اگر بہ نیت دعا پڑھے تو درست ہے ۔ مثلاً وہ آیات جن میں دعا ہے جنبی کو بہ نیت  قرائت قرآن پڑھنا حرام اور بہ نیت دعا جائز ۔ ([13])

 



[1]   سنن ابی داؤد۱ / ۲۳۱۔  

[2]   غوروفکر ، سوچ بچار۔

[3]   حضوری دل سے اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  کادھیان کرنا۔

[4]   یکسوئی

[5]   حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے اس موضوع پر جائَ الحق ص۲۴۷ میں تفصیلی کلام فرمایا ہے ۔

[6]   قریبی رشتہ دار ۔

[7]   دنوں کو خاص کرنا۔

[8]   حقہ پینا۔

[9]   فحش اور گندی باتیں ۔

[10]   شعب الایمان ۴ / ۹۰۔

[11]   حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کی ، یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میری والدہ فوت ہوگئی ہیں اور انہوں نے کسی قسم کی وصیت نہیں کی اور میرا گما ن ہے کہ اگر انہیں کلام کرنے کا موقع ملتا تو وہ صدقہ دیتیں پس کیا اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کروں تو ثواب پہنچے گا ، تو آپ انے فرمایا ، ہاں ۔ الصحیح لمسلم ۲ / ۴۱ ، سنن ابی داؤد ، ۲ / ۴۳

[12]   رچ بس جانا‘چھا جانا۔

[13]   بہار شریعت ۲ / ۴۳ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن