30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اﷲُ تَعَالیٰ عَنْہُ قَالَ :
قَالَ : رَسُولُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وإِنَّمَا لِکُلِّ إمْرِئٍ مَّا نَوٰی فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہُ اِلَی اﷲِ وَرَسُولِہِ فَھِجْرَتُہٗ اِلَی اﷲِ وَرَسُولِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗ اَلٰی دُنْیَا یُصِیْبُھَا اَوِ إمْرَأَۃٍ یَتَزَوَّجُھَا ھِجْرَتُہٗ إِلَی مَا ھَاجَرَ إِلَیْہِ‘‘۔ مُتَفِقٌ عَلَیْہِ ([1])
ترجمہ : - حضرت سیدنا عمر بن الخطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہا انہوں نے ، فرمایا رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ، سوائے اس کے نہیں اعمال ( کا اعتبار اور خدا کی درگاہ میں قبولیت) نیتوں ([2]) کے ساتھ ہے ۔ یعنی کوئی عمل بدون نیت معتبر اور مقبول نہیں ۔ اور کسی آدمی کو اس کے کام میں حصہ یا ثواب نہیں مگر وہی جو اس نے نیت کی پس جس شخص کی ہجرت محض خدا عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کیلئے ہو (یعنی اس کی نیت میں طلب رِضا و امتثال امر شارع([3]) ہو) تو اس کی ہجرت خدا عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے لئے ہے۔ (یعنی مقبول ہے اور اس پر ثواب عظیم مترتب ہوتا ہے ) اور جس کی ہجرت محض حصول دنیا کے لئے ہو یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہجرت کرتا ہو (خدا عَزَّ وَجَلَّ اور رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی رِضا مندی کیلئے نہ ہو) تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی یعنی حصول دنیا یا نکاح ۔ اس کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔
اس حدیث میں بڑا علم ہے ۔ امام شافعی و احمد رَحِمَھُمَا اللّٰہُ تَعَالیٰ نے اس حدیث کو ثلث اسلام یا ثلث علم فرمایا ہے ۔ بیہقی نے اس کی توجیہ یہ فرمائی ہے کہ علم یا دل سے ہوتا ہے یا زبان سے یا بقیہ اعضاء سے اور نیت عمل دل کا ہے ۔ اس لئے یہ حدیث علم کا تیسرا حصہ ہوئی ۔ مرقاۃ ([4])
اکثر مصنفین اصلاح نیت کے لئے اپنی کتابوں کو اسی حدیث سے شروع کیا کرتے تھے ۔ اس حدیث میں جناب رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اخلاص کی ہدایت فرمائی ہے ۔ اور ہر عمل کے ثواب کو نیت پر موقوف فرمایا ہے ۔ اگر اعمال میں نیت نیک ہے تو ثواب ہے ورنہ نہیں ۔ ہجرت ایک عمل ہے اگر اس میں حق سبحانہ و تعالیٰ کی رِضا او ر امتثالِ امر مقصود ہے تو موجبِ برکات ہے ۔ اگر یہ نہیں تو کچھ نہیں ۔ اسی طرح انسان جو عمل کرتا ہے اگر اس میں رضائے حق مقصود ہے تو باعث اجر ہے ورنہ نہیں ۔ اب اس حدیث سے جو فوائد مستنبط ([5]) ہوسکتے ہیں وہ سنو اور خوب یاد رکھو ۔
۱۔ ایک شخص اپنے قریبی کو کچھ خیرات دیتا ہے ۔ اگر صرف اس کی غریبی کا خیال کرکے دیتا ہے ۔ صلہ رحمی کی نیت نہیں تو صدقہ کا ثواب پائے گا۔ لیکن صلہ رحم نہ ہو گا۔ اگرمحض صلہ رحمی کے لئے دیتا ہے تو صلہ رحم کا ثواب ہوگا۔ صدقہ کا ثواب نہ ہوگا۔ اگر دونوں نیت کرے تو دونوں ثواب پائے گا۔ معلوم ہوا کہ ایک کام میں متعدد نیتیں کرنے سے ہر ایک نیت پر ثواب ملتا ہے ۔
۲۔ مثلاً مسجد میں بیٹھنا ایک عمل ہے اگر اس میں بہ نیت اعتکاف بیٹھے تو اعتکاف کا ثواب پائے گا ۔ اگر نیت اعتکاف کے ساتھ یہ نیت بھی ہوکہ جماعت کا انتظار ہے تو بحکم حدیث (جماعت کا منتظر نماز میں ہے ) اس کو نماز کا ثواب بھی ملے گا([6])۔ پھر اسکے ساتھ اگر یہ نیت کرے کہ آنکھ کان اور تمام اعضاء کی جملہ منہیات([7]) سے حفاظت ہو گی تو یہ ثواب بھی حاصل ہوگا۔ پھر اس پر یہ نیت بھی کرے کہ صلوٰۃ وسلام آنحضرت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر بیٹھ کر پڑھوں گا تو اس کا ثواب بھی پائے گا۔ اگر یہ نیت بھی کرے کہ حج و عمرہ کا ثواب
[1] صحیح البخاری ۱ ، ۳ ، الصحیح لمسلم ۱ ، ۱۴۰ ، سنن ابی داؤد ۱ ، ۳۰۰ ، النسائی ۱ ، ۲۴
[2] (۱) امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں : بیشک جو علم نیت جانتا ہے ایک ایک فعل کو اپنے لئے کئی کئی نیکیاں کر سکتا ہے مثلاً ، جب نماز کیلئے مسجد کو چلا اور صرف یہی قصد ہے کہ نماز پڑھو نگا تو بے شک اس کا یہ چلنا محمود ، ہر قدم پر ایک نیکی لکھیں گے اور دوسرے پر گناہ محو کریں گے ، مگر عالم نیت اس ایک فعل میں اتنی نیتیں کرسکتا ہے (۱) اصل مقصود یعنی نماز کو جاتا ہوں (۲)خانۂ خدا کی زیارت کرونگا(۳) شعار اسلام ظاہر کرونگا (۴)داعی الی اﷲ کی اجابت کرتا ہوں (۵) تحیۃ المسجد پڑھنے جاتا ہوں (۶) مسجد سے خس و خاشاک وغیرہ دور کرونگا(۷) اعتکاف کرنے جاتا ہوں کہ مذہب مفتیٰ بہ پر(نفلی) اعتکاف کیلئے روزہ شرط نہیں ۔ ایک ساعت کا بھی ہوسکتا ہے ، جب سے داخل ہو باہر آنے تک اعتکاف کی نیت کرے ۔ انتظار نماز و ادائے نماز کے ساتھ اعتکاف کا بھی ثواب پائے گا۔ (۸) امر الٰہی ’’ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ‘‘ (اپنی زینت لو جب مسجد جاؤ) کے امتثال کو جاتا ہوں ۔ (۹) جو وہاں علم والا ملے گا اس سے مسائل پوچھوں گا ، دین کی باتیں سیکھوں گا (۱۰) جاہلوں کو مسئلہ بتاؤں گا ، دین سکھاؤں گا (۱۱)جو علم میں میرے برابر ہوگا اس سے علم کی تکرار کروں گا (۱۲) علماء کی زیارت (۱۳) نیک مسلمان کا دیدار (۱۴)دوستوں سے ملاقات(۱۵) مسلمانوں سے میل (۱۶) جو رشتہ دار ملیں گے ان سے بکشادہ پیشانی مل کر صلۂ رحمی (۱۷) اہل اسلام کو سلام (۱۸) مسلمانوں سے مصافحہ کروں گا (۱۹) ان کے سلام کا جواب دوں گا (۲۰) نماز باجماعت میں مسلمانوں کی برکتیں حاصل کروں گا (۲۱) و (۲۲) مسجد میں جاتے نکلتے حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر سلام عرض کروں گا(۲۳) و (۲۴) دخول و خروج میں حضور و آل حضور و ازواج حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمپر درود بھیجوں گا اللھم صلی علی سیدنا محمد وعلی ال سیدنا محمد وعلی أزواج سیدنا محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم(۲۵) بیمار کی مزاج پرسی کروں گا (۶ ۲) اگر کوئی غمی والا ملا تعزیت کروں گا (۲۷) جس مسلمان کو چھینک آئی اور اس نے ’الحمد ﷲ ‘ کہا اسے ’یرحمک اﷲ‘ کہوں گا(۲۸)امر بالمعروف (۲۹)و نہی عن المنکر کروں گا (۳۰)نمازیوں کو وضو کا پانی دوں گا (۳۱)و (۳۲)خود مؤذن ہے ، یا مسجد میں کوئی مؤذن مقرر نہیں تو نیت کرے کہ اذان و اقامت کہوں گا۔ اب یہ کہنے نہ پایا یا دوسرے نے کہہ دی تاہم اپنی نیت کا ثواب پاچکا ، فَقَدْ وَقَعَ أجَرُہ‘ عَلٰی اﷲِ (۳۳)جو راہ بھولا ہوگا اُسے راستہ بتاؤں گا(۳۴)اندھے کی دستگیری کروں گا (۳۵) جنازہ ملا تو نماز پڑھوں گا (۳۶)موقع پایاتوساتھ دفن تک جاؤں گا۔ (۳۷)دومسلمانوں میں نزاع ہوئیتوحتی الوسع صلح کراؤں گا (۳۸) و (۳۹)مسجد میں جاتے وقت داہنے ، اور نکلتے وقت بائیں پاؤں کی تقدیم سے اتباع سنت کرونگا۔ (۴۰)راہ میں جو لکھا ہوا کاغذ پاؤں گا اٹھا کر ادب سے رکھ دوں گا۔ الی غیر ذلک من نیات کثیرہ۔ تو دیکھئے کہ جو ان ارادوں کے ساتھ گھر سے مسجد کو چلا وہ صرف حسنۂ نماز کیلئے نہیں جاتا بلکہ ان چالیس حسنات کیلئے جاتا ہے ۔ تو گویا اس کا یہ چلنا چالیس طرف چلنا ہے اور ہر قدم چالیس قدم ، پہلے اگر ایک نیکی تھا اب چالیس نیکیاں ہوگا۔ فتاوی رضویہ ۵ ، ۶۷۵ ا(تسہیل و تخریج شدہ)۔ (نیت کی مزید نفیس بحث فیضانِ احیاء العلوم میں ملاحظہ فرمائیں ۔
[3] اﷲتعالیٰ عَزَّ وَجَلَّ و رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے حکم کی پیروی
[4] المرقاۃ ۱ / ۹۸
[5] نکالے جاسکتے ہیں ۔
[6] صحیح البخاری۱ / ۹۰
[7] ممنوعہ باتوں سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع