دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Arbaeen-e-Hanfiya | اربعین حنفیہ

book_icon
اربعین حنفیہ

اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا۔

اس حدیث میں سرورعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے سلام بلفظ خطاب سکھایا۔ اور حضور عَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو معلوم تھا کہ لوگ نماز ہمیشہ میرے پاس ہی نہیں پڑھیں گے کوئی گھر میں کوئی سفر میں کوئی جنگل میں کوئی کسی جگہ کوئی کسی جگہ پڑھے گا اور ہر جگہ یہی لفظ بصیغہ خطاب پڑھا جائے گا۔ اگرحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو سلام بصیغہ منع کرناہوتا تو آپ تشہد میں ہرگز اجازت نہ دیتے ۔ اور یہ بھی ثابت ہوگیا کہ یہاں خطاب بطریق حکایت نہیں بلکہ بطریق اِنشا ہے ([1])۔ کیونکہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا اَلسَّلَامُ عَلیٰ عِبَادِ اﷲِ الصَّالِحِیْنَکہنے سے سب صالحین کو یہ سلام پہنچے گا۔ اگر حکایت ہوتی تو حکایتی سلام نمازی کی طرف سے کیسے ہوسکتا ہے ۔ معلوم ہوا کہ حکایتی نہیں بلکہ اِنشا ہے ۔

حدیث {۳۳}

إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِیْ صَلَاتِہٖ فَلْیَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْیُتِمَّ عَلَیْہِ ثُمَّ یُسَلِّمُ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ([2])

ترجمہ : -حضرت سیدنا عبد اﷲ بن مسعود  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے فرمایا رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے : جب کسی کو نماز میں شک ہو تو صواب کا قصد([3]) کرے اور اس پر پورا کرے پھر سلام کہے اور دو سجدے (سہو کے) کرے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سجدہ سہو سلام کے بعد کرنا چاہیئے۔ ابو داؤد میں حدیث ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ ہر ایک سہو کے دو سجدے ہیں بعد سلام کے ([4]) ، امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کا یہی مذہب ہے۔

حدیث {۳۴}

عَنْ اَبِیِ ُمَامَۃَ قَالَ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اَیُّ الدُّعَائِ اَسْمَعُ؟ قَالَ جَوْفَ اللَّیْلِ الْاٰخِرِ وَ دُبُرَالصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَاتِ([5])

 ترجمہ : -حضرت سیدنا ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہا گیا یارسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کونسی دعا زیادہ سنی جاتی ہے ۔ فرمایا پچھلی رات کے درمیان اور فرض نمازوں کے بعد ۔ اس کو ترمذی نے روایت کیا۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کے بعد دعا مانگنا دُرست ہے ۔

حدیث {۳۵}

مَا مِنْ عَبْدٍ بَسَطَ کَفَّیْہِ فِیْ دُبُرِِ کُلِِّ صَلوٰۃٍ ثُمَّ یَقُوْلُ اَللّّٰھُمَّ إِلٰھِِیْ وَإِلٰہَ إِبْرَاھِیْمَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوْبَ وَإِلٰہَ جِبْرِِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ وَ إِسْرَافِیْلَ اَسْئَلُکَ اَنْ تَسْتَجِِیْبَ دَعْوَتِیْ فَإِنِّیْ مُضْطَرٌّ وَ تَعْصِمَنِيْفِیْ دِیْنِیْ فَإِنِّیْ مُبْتَلًی وَتَنَالَنِیْ بِِرَحْمَتِکَ فَإِنِّیْ مُذْنِبٌ وَتَنْفِیَ عَنِّی الْفَقْرَ فَإِنِّیْ مُتَمَسْکِنٌ إِلَّا کَانَ حَقًّا عَلَی اﷲِ عَزَّوَجَلَّ اَنْ لاَّ یَرُدَّ یَدَیْہِ خَائِبَیْنِِ۔ ([6])

ترجمہ : - رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا یعنی جو شخص ہرنمازکے پیچھے (بعد) ہاتھ پسار (پھیلا )کر یہ دعا پڑھے ([7])  تواللہ تبار ک وتعا لیٰ پرحق ہے کہ وہ اس کے ہاتھ خالی نہ پھیرے ۔

اس حدیث کو حافظ ابوبکر بن السنی نے عمل الیوم واللیلۃ میں روایت کیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کے بعد ہاتھ اٹھاکر دُعا مانگنا چاہیئے ۔ جو لوگ نماز کے بعد دعا نہیں مانگتے وہ محروم رہتے ہیں ۔ نماز جنازہ بھی من وجہ نماز ہے ۔ حدیث مذکور کا لفظ کُلُّ صَلٰوۃٍاس کو بھی شامل ہے ۔ اس لئے نماز جنازہ کے بعد بھی ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا چاہیئے۔

حدیث {۳۶}

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ  ،  قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن