30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منع فرمایا ۔ جس سے ثابت ہوا کہ رفع یدین سنت نہیں بلکہ منسوخ ([1]) ہے ۔ یہ جو بعض کہتے ہیں کہ اس حدیث میں بوقت سلام رفع یدین کرنے کی ممانعت ہے صحیح نہیں ۔ وہ حدیث جس میں بوقت سلام اشارہ کرنے کی ممانعت ہے دوسری ہے ۔ ان دونوں حدیثوں میں فرق ہے ۔ اس حدیث میں رفع یدین کا ذکر ہے دوسری میں رفع یدین کا ذکر نہیں۔ بلکہ اِیْمَائٌ بِالْیَدَیْنِ کا ذکر ہے ۔ کسی روایت میں تؤمون ہے کسی میں تشیرون ۔ نیز اس حدیث میں اُسْکُنُوْا فِی الصَّلوٰۃِ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رفع یدین نماز میں تھا جس کی ممانعت ہوئی اور سکون کا حکم فرمایا ۔ دوسری حدیث میں یہ لفظ ہی نہیں کیونکہ سلام نماز کا مظروف نہیں ([2])۔ تو اشارہ بالیدین بوقت سلام بھی مظروف نماز نہیں ۔ اور اس حدیث میں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نمازپڑھنے کا ذکر نہیں اور دوسری حدیث میں حضورعَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے ساتھ نماز پڑھنے کا ذکر ہے ۔ معلوم ہوا کہ یہ دونوں حدیثیں الگ الگ ہیں۔ یہ حدیث رفع یدین کی ممانعت میں ہے۔ دوسری بوقت سلام اشارہ بالیدین کی ممانعت میں ۔ ان دونوں حدیثوں کو ایک سمجھنا باوجود اس اختلاف کے جو ہم نے ذکر کیا ہے خوش فہمی ہے۔
اعتراض :
عیدین اور وتروں کے لئے کچھ ایسی خصوصیات ہیں جو کہ دو سری نمازوں میں نہیں ۔ مثلاً عیدین کے لئے شہر کا شرط ہونا۔ اور شہر سے باہر نکل کر عید پڑھنا خطبہ نماز عید کے بعد پڑھنا۔ وتر کا طاق ہونا۔ دعا قنوت پڑھنا ۔ تو اسی طرح رفع یدین جو عیدین یا وتروں میں کیا جاتا ہے ۔ وہ بھی ان دونوں نمازوں کی خصوصیات سے ہے ۔
علاوہ اس کے جس نماز کو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے دیکھ کر صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو رفع یدین سے منع فرمایا وہ نماز عید نہ تھی اگر عید ہوتی تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم خود امام ہوتے اور نماز وتر بھی نہ تھی۔ کیونکہ وتروں میں جماعت اور ان کا مسجد میں ادا کرنا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اور صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی عادات مستمرہ ([3]) سے نہ تھا۔ بلکہ گھروں میں اکیلے اکیلے پڑھنے کی عادت تھی۔ تو معلوم ہوا کہ وہ بھی رَفْعُ یَدَیْنِ عِنْدَ الرُّکُوْعِ والرَّفْعِ عَنْہُ ([4]) تھا جو حضور کے اس فرمان مبارک کے بعد منسوخ ہوا۔
حدیث {۲۵}
عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اﷲِ بْنُ مَسْعُودٍرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَلآ أُصَلِّيْ بِِکُمْ صَلوٰۃَ رَسُوْلِِ اﷲِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فَصَلَّی وَلَمْ یَرْفَعْ یَدَیْہِ إِلَّا مَرَّۃً۔ اَبُوْ دَاوٗدَ([5])
ترجمہ : -حضرت علقمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ عبد اﷲ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ میں تمہیں رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی نماز پڑھ کرنہ دکھاؤں ؟ پھر نماز پڑھی اور ایک بار (تحریمہ ) کے سوا ہاتھ نہ اٹھائے۔
اس حدیث کو ابوداؤد ، ترمذی و نسائی نے روایت کیا۔ ترمذی نے اس کو حسن کہا اور فرمایا کہ اس حدیث پر بہت صحابہ و تابعین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکا عمل ہے ۔ اور سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاور اہل کوفہ کا یہی قول ہے ۔ اس حدیث کے سب راوی ثقہ ہیں ۔ ابن حزم نے اس کو صحیح کہا ہے ۔ بعض محدثین نے عاصم بن کلیب پر کچھ کلام کیا ہے ۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ ثقہ ہے ۔ نسائی اور یحیٰ بن معین نے ان کو ثقہ کہا ۔ مسلم نے صحیح میں اس کی روایت کی ۔ ابن حبان نے اس کو ثقات میں ذکر کیا۔ ابوحاتم نے اس کو صالح کہا وَالْبِسَطُ فِیْ تَرْوِیْحِ الْعَیْنَیْنِ لِلْعَلاَّمَۃِ الْفَیْضِ فُوْرِیْ امام طحاوی حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے بسند صحیح روایت کرتے ہیں کہ بجز تکبیر تحریمہ کے وہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح حضرت سیدنا علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے بسند صحیح امام طحاوی و ابن ابی شیبہ نے روایت کیا کہ وہ پہلی تکبیر کے وقت رفع یدین کرتے تھے ۔ پھر نہیں کرتے تھے ۔ اسی طرح عبد اﷲ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی رفع یدین نہیں کرتے تھے ۔
الحاصل خلفاء اربعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے بھی رفع یدین بسند صحیح ثابت نہیں ۔ اگر یہ فعل سنت ہوتا تو خلفاء اربعہ کا اس پر ضرورعمل ہوتا۔ معلوم ہوا کہ یہ سنت نہیں ۔ دیکھو بخاری کی حدیث میں آتا ہے :
کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم یُصَلِّیْ وَ ھُوَ حَامِلُ اُمَامَۃٍ([6])
کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم امامہ کو (جو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی نواسی تھیں )اٹھاکر نماز پڑھتے تھے ۔ یہاں بھی کَانَ یُصَلِّیْ ہے ۔ اور رفع یدین کی حدیث میں بھی کَانَ یُصَلِّیْہے ۔ اگر رفع یدین ہر نماز میں سنت ہے تو نواسی کو اٹھانا بھی ہر نماز میں سنت ہونا چاہیئے ۔ تو ان مدعیان عمل بالحدیث کیلئے لازم ہے کہ ہر نماز میں اپنی نواسی یا کم سے کم لڑکی کو اٹھاکر نماز پڑھیں۔ کیونکہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ثابت ہے۔ بلکہ رفع یدین کے بارے میں تو نہ کرنے کی بھی حدیث آئی ہے لیکن لڑکی کو اٹھانے کی نہ
[1] جب شریعت کوئی نیا حکم دے اور وہ پچھلے حکم کو ختم کردے تو اس نئے حکم کو ناسخ اور پچھلے ختم ہونے والے حکم کو منسوخ کہتے ہیں۔ لہذا اس حدیث نے رفع یدین والی حدیث کے حکم کو منسوخ کر دیا۔
[3] ایسی عادات کہ جو ہمیشہ سے ہوں۔
[4] رکوع میں جاتے وقت اور اُٹھتے ہوئے دونوں ہاتھوں کا اُٹھانا ۔
[5] ابوداؤد ۱ ، ۱۰۹ ، جامع ا لترمذی ۲ ، ۴۰ ، النسائی ۱ ، ۱۹۵۔
[6] صحیح البخاری ۱ ، ۱۹۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع