30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث وائل بن حجر پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں شعبہ نے تین خطائیں کیں ۔ اول یہ کہ اس نے حجر ابی العنبس کہاہے حالانکہ وہ حجر بن عنبس ہے ۔ جس کی کنیت ابو السکن ہے ۔ دوسرا یہ کہ شعبہ نے اس حدیث میں علقمہ بن وائل کو زیادہ کیا ہے ۔ حالانکہ حجر بن عنبس عن وائل بن حجر صحیح ہے ۔ تیسرا یہ کہ اس نے خَفَضَ بِھَا صَوْتَہٗ کہا ہے حالانکہ مَدَّ بِھَا صَوْتَہٗ ہے ۔ اور یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ علقمہ نے اپنے باپ سے نہیں سنا۔ بلکہ وہ اپنے باپ کی موت کے چھ مہینے بعد پیدا ہوئے۔
پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ حجر بن عنبس کی کنیت ابو العنبس بھی ہے ۔ اور ابو السکن بھی۔ ایک شخص کی دو کنیتیں ہونا بعید نہیں ہے ۔ ابن حبان کتاب النقات میں فرماتے ہیں ۔
حَجَرُ بْنُ عَنْبَسٍ اَبُو السَّکُنُ الْکُوْفِیْ وَ ھُوَ الَّذِیْ یُقَالُ لَہٗ حَجَرٌ اَبُو الْعَنْبَسِ یَرْوِِیْ مِنْ عَلِیٍّ وَ وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ رَوَی عَنْہُ سَلَمَۃُ بْنُ کُھَیْلٍ اِنْتَہٰی۔ آثار السنن ص ۹۶۔
حجر بن عنبس ابو السکن کوفی وہ ہیں جنہیں ابوالعنبس بھی کہا جاتا ہے ۔ ابو داؤد نے آمین کے باب میں ثوری سے بھی حجر بن عنبس کی کنیت ابو العنبس نقل کی ہے ۔ بیہقی نے سنن میں بھی ایسا ہی لکھاہے۔ دارقطنی نے تو وکیع اور محاربی سے یہی نقل کیا ہے کہ انہوں نے ثوری سے اس کی کنیت ابوالعنبس روایت کی۔ کشف الاستار عن رجال معانی الآثار میں بھی ایسا ہی لکھا ہے ۔ معلوم ہوا کہ حجر بن عنبس کی کنیت ابو العنبس بھی ہے ۔ اس میں شعبہ کی خطا نہیں ہے ۔ نہ شعبہ اس میں منفرد ہیں ۔ بلکہ محمد بن کثیر اور وکیع اور محاربی بھی یہی نقل کرتے ہیں ۔
دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ بعض روایات میں تصریح یہ ہے کہ حجر بن عنبس نے علقمہ سے بھی سنا ہے اور خود وائل سے بھی اس حدیث کو سنا ہے ۔ چنانچہ امام احمد نے اپنے مسند میں روایت کیا ہے ۔
عَنْ حَجَرٍ اَبِی الْعَنْبَسِ قَالَ سَمِعْتُ عَلْقَمَۃَ بْنَ وَائِلٍ یُحَدِّثُ عَنْ وَائِلٍ وَ سَمِعْتُ مِنْ وَائِلٍ قَالَ صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ۔ ([1])
ابوداؤدطیالسی نے بھی ایسا ہی روایت کیا ہے ۔ ابو مسلم کجی نے بھی اپنی سنن میں ایسا ہی روایت کیا ہے (آثار السنن) تو معلوم ہوا کہ شعبہ نے اس میں بھی خطا نہیں کی۔ کیونکہ حجر نے یہ حدیث علقمہ سے بھی سنی اس لئے اس نے علقمہ کا ذکر کیا۔ اور وائل سے بھی سنی ۔ اس لئے کسی وقت علقمہ کا ذکر نہیں کیا۔ اور حدیث ۱۷ میں ہم مفصل ذکر کر آئے ہیں کہ علقمہ نے اپنے باپ سے سنا ہے فلا نعیدہ ۔
رہی یہ بات کہ سفیان مَدَّ بِھَا صَوْتَہٗ کہتے ہیں اور شعبہ خَفَضَ بِھَاتوکس کی روایت کو ترجیح ہوگی۔ میں کہتا ہوں کہ شعبہ کی روایت کو ترجیح ہے۔ اس لئے کہ شعبہ تدلیس کو اچھا نہیں سمجھتے تھے بلکہ فرماتے تھے کہ میں آسمان سے گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاؤں تو اس سے بہتر ہے کہ میں تدلیس کروں (تذکرۃ الحفاظ) اور سفیان ضعفاء ([2]) سے بھی تدلیس کیا کرتے تھے۔ تو شعبہ کی روایت میں تدلیس کا شبہ نہیں اس لئے اس کو ترجیح ہوگی۔ اور سفیان کی روایت میں تدیس کا شبہ ہے ۔ دوسری وجہ ترجیح یہ ہے کہ آمین دعا ہے اوراصل دعا میں اخفا ہے اﷲ تعالیٰ فرماتاہے :
اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًؕ-۔ ( الاعراف ۸/۵۵)
ترجمۂ کنزالایمان : اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ ۔
اور اکثر صحابہ وتابعین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاآمین خفیہ کہتے تھے ۔ جیسا کہ جوہر التقی ص۱۳۲ میں ہے اس لئے شعبہ کی روایت راجح ہوگی۔
نیز حدیث مَدَّ بِھَا صَوْتَہٗکے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ آپ آمین کو بہ لغت مدپڑھتے تھے نہ قصر۔ علاوہ اس کے آمین کی ایک حد بھی حدیث میں آئی ہے وہ حَتّٰی سَمِعَ مَنْ یَلِیہِ مِنَ الصَّفِّ الْاَوَّلِہے ۔ کہ صف اول کے وہ لوگ جن کے لئے حضور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے تعلیم کے لئے آواز دراز فرمائی۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مقتدیوں کا آمین بالجہرہرگز ثابت نہیں ۔ تو آج کل مدعیان عمل بالحدیث کا امام کے پیچھے زور سے آمین کہنا محض بے دلیل ہے۔
حدیث {۲۴}
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اﷲِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فَقَالَ مَالِیْ اَرَاکُمْ رَافِعِیْ اَیْدِیَکُمْ کَأَنَّھَا اَذْنَابُ خَیْلٍِ شَمْسٍ اُسْکُنُوْا فِی الصَّلوٰۃِ۔ رَوَاہٗ مُسْلِمٌ ([3])
ترجمہ : -حضرت جابر بن سمرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہا انہوں نے نکلے ہم پر رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اور فرمایا کیا ہے مجھے کہ میں تمہیں رفع یدین کرتا ہوا دیکھتا ہوں گویا کہ سرکش گھوڑوں کی دم ہیں ۔ نماز میں آرام کیا کرو ۔
اس کو مسلم نے روایت کیا۔ اس حدیث میں ظاہر ہے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حضراتِ صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو نماز میں رفع یدین ([4]) کرتے ہوئے دیکھا اور
[1] ترجمہ : حجر بن عنبس سے روایت ہے ، کہتے ہیں میں نے علقمہ بن وائل کو وائل سے حدیث بیان کرتے ہوئے سُنا اور میں نے وائل سے (بھی) سُنا کہ وہ کہتے ہیں ہمیں رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے نماز پڑھائی۔
[2] ضعیف کی جمع ہے ۔ اس کے معنی کمزور کے ہیں ، یہاں مراد فنِ اصول حدیث میں ضعیف راوی ہیں ۔
[3] الصحیح لمسلم۱ ، ۱۸۱ ، ابوداؤد ۱ ، ۱۴۳۔
[4] دونوں ہاتھوں کا اٹھانا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع