30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کِتَابُ الدَّلِیْلِ الْمُبِیْنِ فِیْ تَرْکِ الْقِرَأَۃِ لِلْمُقْتِدِیِیْنَ مؤلفہ جناب محمد حسن فیض پوری میں دیکھئے ۔ جو مؤلف کے صاحبزادے سے مل سکتی ہے ۔
حدیث {۲۲}
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم قَالَ اِذَا قَالَ الْاِمَامُ غَیْرِِ الْمَغْضُوْبِِ عَلَیْھِِمْ وَلَاالضَّآلِیْنَ فَقُوْلُوْا آمِیْن فَاِنَّہٗ مَنْ وَافَقَ قَوْلَ الْمَلٰئِکَۃِ غُفِرَ لَہ‘ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔ رَوَاہٗ الْبُخَارِِیْ([1])
ترجمہ : -حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسول کریم ، رؤف رّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا جب امام غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لاَ الضَّالِّیْنَ کہے تو تم آمین کہو ۔ کیونکہ جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے ساتھ موافق ہوگئی اس کے پچھلے گناہ معاف ہوگئے۔
اس کو بخاری نے روایت کیا۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ آمین اخفا([2])کے ساتھ کہنی چاہیئے ۔ کیونکہ اگروہ جہر ([3])ہوتی تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نہ فرماتے جب امام ’’وَ لاَ الضَّآلِّیْنَ ‘‘کہے تم آمین کہو بلکہ یوں فرماتے کہ جب امام آمین کہے تو تم آمین کہو ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جمہور محدثین نے ’’اِذَا اَمَّنَ‘‘کے معنی ’’اِذَا اَرَادَ التَّأمِیْنَ‘‘ کئے ہیں ۔ یعنی جب امام آمین کہنے کا ارادہ کرے تو تم آمین کہو ۔ اور وہ ارادہ ’’ وَلاَ الضَّآلِّیْنَ‘‘ختم کرنا ہے ۔ جمہور نے یہ معنی جمع بین الحدیثَین ([4]) کیلئے کئے ہیں ۔ تو جب اس حدیث کے معنی إذا أراد التامین ہوئے تو اس سے جہر آمین ثابت نہیں ہوتا۔
علاوہ اسکے ایک دوسری حدیث میں جس کوامام احمدنسائی دارمی([5]) نے روایت کیا ہے آیا ہے فَاِنَّ الْاِمَامَ یَقُوْلُ آمِیْنْ کہ امام بھی آمین کہتا ہے ، اس سے بھی معلوم ہوا کہ آمین بالجہر نہ تھی۔ اگر جہر ہوتی تو امام کے فعل کے اظہار کی ضرورت نہ پڑتی۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مقتدی فاتحہ نہ پڑھے ۔ کیونکہ اگرمقتدی پر فاتحہ لازم ہوتا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے جب تم’’غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لاَ الضَّالِّیْنَ‘‘پڑھو تو آمین کہو۔ بلکہ یوں فرمایا کہ جب امام وَلاَ الضَّآلِّیْنَکہے تو تم آمین کہو ۔ معلوم ہواکہ فاتحہ کاپڑھناامام پرہی لازم تھا۔ دوسری حدیث میں اور بھی تصریح فرمادی کہ اِذَا اَمَّنَ الْقَارِئ فَاَمِّنُوْا۔ جب قراء ت پڑھنے والا آمین کا ارادہ کرے تو تم بھی آمین کہو ۔ پس اگر مقتدی بھی قاری ہوتا توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم صرف امام کو قاری نہ فرماتے۔
حدیث {۲۳}
عَنْ وَائِلِ بْنِِ حَجَرٍ أَنَّہٗ مَعَ رَسُوْلِِ اﷲِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فَلَمَّا بَلَغَ غَیْرِِ الْمَغْضُوْبِِ عَلَیْھِمْ وَلاَ الضَّآلِیْنَ قَالَ اٰمِیْن اَخْفٰی بِھَا صَوْتَہٗ۔ رَوَاہٗ الْحَاکِمُ وَ الطَّبْرَانِیْ وَ الدَّارُقُطْنِیْ وَ اَبُوْ یَعْلٰی وَ اَحْمَدُ ([6])
ترجمہ : -حضرت وائل بن حجر سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نماز پڑھی ۔ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمجب’’غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لاَ الضَّالِّیْن‘‘کو پہنچے تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے پوشیدہ آواز سے آمین کہی ۔
اس حدیث کو حاکم ، طبرانی ، دارقطنی ، ابو یعلی اور امام احمد نے روایت کیا۔ یہ حدیث آمین کے اخفا میں نص ہے ۔ اس کی سند صحیح ہے ۔
حدیثِ سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاس کی تائید کرتی ہے کہ جب وہ نماز پڑھاتے تو دوبار خاموش ہوتے ۔ ایک بار جب نماز شروع کرتے دوسری بار جب ’’وَ لاَ الضَّالِّیْن‘‘کہتے ۔ لوگوں نے اس پر انکار کیا تو انہوں نے ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو لکھا۔ حضرت سیدنا ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جواب میں لکھا کہ سمرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جیسا کرتے ہیں ٹھیک ہے ۔ اس حدیث کو دارقطنی و احمد نے بسند صحیح روایت کیا۔ ابو داؤد کی روایت میں سمرہ بن جندب نے ان دونوں سکتوں کو رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے بیان کیا۔ ظاہر ہے کہ پہلا سکتہ ثناء کے لئے تھا ۔ معلوم ہوا کہ آمین پوشیدہ تھی۔ اس حدیث کی سند آثار السنن میں صالح لکھی ہے ۔
امام طحاوی ابو وائل سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا عمر و علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہمابسم اﷲ شریف اور اعوذ اور آمین میں جہر نہیں کرتے تھے۔ طبرانی کبیر میں ابووائل سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا علی و عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہم بسم اﷲ اور اعوذ اور آمین بلند آواز سے نہیں کہتے تھے۔ جوہر التقی میں بحوالہ ابن جریر طبری ابووائل سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا عمر و علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابسم اﷲ اور آمین اونچی نہیں کہتے تھے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع