دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Arbaeen-e-Hanfiya | اربعین حنفیہ

book_icon
اربعین حنفیہ

دوسری حدیث میں اس کی صاف تصریح ہے۔ جس کو نسائی([1]) نے روایت کیا۔ فَلَمْ اَسْمَعْ اَحَدًا مِّنْھُمْ یَجْھَرُ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِکہ میں نے ان میں سے کسی کو نہیں سنا کہبِسْمِ اللّٰہِ جہر سے پڑھتے ہوں ۔ تو معلوم ہوا کہ بِسْمِ اللّٰہِپڑھنے کی نفی نہیں ۔ بلکہ اونچی پڑھنے کی نفی ہے۔

حدیث {۲۰}

عَنْ اَبِیْ مُوْسیٰ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم قَالَ اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلوٰۃِ فَلْیَؤُمُّکُمْ أحَدُکُمْ وَاِذَا قَرَأَ الْاِمَامُ فَاَنْصِتُوْا۔   رواہ أحمد و مسلم ([2])

ترجمہ : -حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ رسول کریم و رؤف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ہمیں سکھایا کہ جب تم نماز کے لئے اٹھو تو چاہیئے کہ تم میں سے ایک تمہارا امام بنے اور جب امام پڑھے تو تم چپ رہو ۔

اس کو امام احمدومسلم نے روایت کیا۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرائت امام کا حق ہے اور مقتدی کو خاموش رہنے کا حکم ہے ۔ یہ حدیث قرآن کریم کی تفسیر ہے ۔

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۲۰۴)

ترجمۂ کنزالایمان : اور جب قرآن پڑھا جائے تو اُسے کان لگاکر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔ (الاعراف۹/۲۰۴)

 اس آیت سے یہ معلوم نہیں ہوتا تھاکہ پڑھنے والا کون ہو۔ حدیث مذکور نے یہ بیان کردیا کہ وہ پڑھنے والا امام ہے۔ جب امام قرآن پڑھے تو تم خاموش رہو۔ معلوم ہوا کہ مقتدی فاتحہ خلف الامام نہ پڑھے([3])۔ یہی صحیح ہے۔ حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا۔ فرمایا رسول   کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے :

اِنَّمَا جُعِلَ الْاِمَامُِ لِیُؤْتَمََّّ بِہِ فَاِذَا کَبَّرَ فَکَبِِّرُوْا وَاِذَا قَرَئَ فَاَنْصِتُوْا۔

ترجمہ : امام اس لئے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو۔ جب وہ پڑھے تو تم چپ رہو۔([4])

 اس کو ابوداؤد ابن ماجہ نسائی وغیرہم نے روایت کیا۔ یہ حدیث بھی صحیح ہے۔ اس کو مسلم نے بھی صحیح کہا ہے ۔

حدیث{۲۱}

عَنْ جَابِرٍٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مَنْ کَانَ لَہ اِمَامٌ فَقِرَأۃُ الْاِمَامِِِ لَہٗ قِرَأْۃٌ۔  رَوَاہٗ الْحَافِظُ اَحْمَدُ بْنُ مُنِیْعٍ فِیْ مُسْندِہِ وَ مُحَمَّدٌ فِی الْمُؤَطَّا وَ الطَّحَاوِیْ وَ الدَّارُقُطْنِیْ ([5])

ترجمہ : - حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا جس شخص کے لئے امام ہو تو امام کا پڑھنا اسی کا پڑھنا ہے ۔

یعنی امام کی قراء ت مقتدی ہی کی قراء ت ہے ۔ مقتدی کو خود قرآن میں سے کچھ نہ پڑھنا چاہیئے۔ یہ حدیث صحیح ہے ۔ اس کے سب راوی ثقہ ہیں ۔

حدیث لاصلوٰۃ جس کو بخاری و مسلم ([6])نے روایت کیا وہ امام اور منفرد کیلئے ہے اس حدیث کی ایک روایت میں فَصَاعِدًا  بھی آیا ہے یعنی اَلْحَمْدُ اور کچھ زیادہ کے سوا نماز نہیں ۔ تو اگر یہ حدیث مقتدی کو بھی عام ہو تو لازم آتاہے۔ کہ علاوہ فاتحہ کے مقتدی پر سورۃ بھی واجب ہو او ر اس کا کوئی قائل نہیں ۔ معلوم ہوا کہ یہ حدیث امام اور منفرد کے لئے ہے۔ ابوداؤد میں سفیان جو اس حدیث کے راوی ہیں فرماتے ہیں  لِمَنْ یُّصَلِّیْ وَحْدَہٗ کہ یہ حدیث اس شخص کے لئے ہے جو اکیلا نماز پڑھے یعنی مقتدی کے لئے نہیں ۔

حدیث عبادہ جس میں نماز فجر کا قصہ ہے وہ ضعیف ہے ۔ کسی روایت میں مکحول ہے جو مدلِّس([7]) ہے ۔ اور معنعن([8])روایت کرتا ہے ۔ مدلس کی معنعن قابل حجت نہیں ۔ اگرکسی روایت میں اپنے شیخ سے تحدیث بھی کرتا ہے توشیخ الشیخ سے بلفظ عن روایت کرتا ہے اور اصول حدیث میں لکھا ہے کہ مدلس کبھی شیخ الشیخ کوبھی ساقط کرتا ہے ۔ اس لئے حجت نہیں اورکسی روایت میں نافع بن محمود ہے جو مستور الحال([9])ہے ۔ کسی روایت میں مکحول عن عبادہ ہے جو مرسل([10]) ہے ۔ الغرض کوئی روایت صحیح نہیں ۔ اس مسئلہ کی اگر زیادہ تفصیل دیکھنا ہو تو



[1]   النسائی۱ / ۱۰۵۔

[2]   الصحیح لمسلم ، ۱ / ۱۷۴ اَلدِّرَایَۃُ فِیْ تَخْرِیْجِ اَحَادِیْثِ الھِدَایَۃِ ۱ / ۱۶۴ ،  مُسْنَدُ اَبِیْ عَوَانَہ۲ / ۱۳۳۔

[3]   یعنی امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ نہ پڑھے۔

[4]   النسائی ۱ / ۱۱۲ ۔

[5]   المؤطا لامام محمد ۸۹ ، المسند لامام اعظم ۶۱۔

[6]   صحیح البخاری ۱ / ۲۶۴ ،  الصحیح لمسلم۱ / ۲۹۵

[7]   مدلِّس تدلیس کا اسم فاعل ہے اور تدلیس کا لغوی معنی ہے گاہک سے سودے کے عیب کو چھپانا اور اصطلاح میں ’’سند میں کسی عیب کو چھپانااور اس کے ظاہر کی تحسین (تعریف )کرنا‘‘ ملخص از تقریب النواوی مع التدریب ۱ / ۲۳۰۔

[8]    یہ عنعنہ سے مشتق ہے اور اصطلاح میں وہ حدیث ہے جس میں راوی عن فلاں عن فلاں کہے ۔

[9]   وہ راوی جسکا نام لیکر دو یا دو سے زائد روایوں نے روایت کی ہو لیکن اسکی عدالت ظاہرًا اور باطنًا نامعلوم ہواسکی روایت قبول نہیں کی جاتی

[10]   لغت میں اَرْسَلَ کے معنی ہیں کسی چیز کو بغیر قید کے بیان کرنا اصطلاح میں اس سے مراد وہ حدیث ہے کہ جسکی سند کے آخر میں تابعی کے بعد راوی (صحابی) کے نام کو حذف کر دیا جائے وہ مُرْسَلْ ہے۔ اسکی صورت یہ ہے کہ تابعی کہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   نے فرمایا ، یا یہ کام کیا ، یا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے سامنے یہ کام کیا گیا ، شرح نخبۃ الفکر ، ۵۱۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن