30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں کہا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن خزیمہ کی سند میں بھی مؤمل بن اسماعیل ضرور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ابوحاتم نے اس کو کثیر الخطا کہا ، امام بخاری نے منکر الحدیث۔ ابوزرعہ کہتے ہیں کہ اس کی حدیث میں خطابہت ہے(میزان) علامہ مزی نے تہذیب الکمال میں ، حافظ ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں لکھا ہے :
قَالَ غَیْرُہٗ دُفِنَ کُتُبُہٗ وَ کَانَ یُحَدِّثُ مِنْ حِفْظِہِ فَکَثُرَ خَطَائُہٗکہ اس کی کتابیں دفن کی گئیں ۔ وہ اپنے حفظ سے حدیث بیان کرتے تھے اس لئے ان سے بہت خطا واقع ہوئی۔ ([1])
تہذیب التہذیب میں سلیمان بن حرب کا قول نقل کیا ہے :
وَِ قَدْ یَجِبُ عَلَی اَھْلِِ الْعِلْمِ اَن یَّقِفُوْا عَنْ حَدِیْثِہِ فَاِنَّہٗ یَرْوِیْ الْمَنَاکِیْرَ عَنْ شُیُوْخِہِ وَ ھٰذَا اَشَدُّ فَلَوْ کَانَتْ ھٰذِہِ الْمَنَاکِیْرُ عَنِ الضُّعَفَائِ لٰکِنَّا نَجْعَلُ لَہٗ عُذْرًا۔ ([2])
یعنی اہل علم پر واجب ہے کہ اس کی حدیث سے بچتے رہیں کیونکہ یہ شخص ثقات سے منکرات روایت کرتا ہے اور یہ بہت برا ہے ۔ اگر ضعفاء سے مناکیر روایات کرتا تو اس کو معذور سمجھتے ۔ (اور ضعفاء پر منکرات محمول کرتے )۔
حافظ ابن حجر فتح الباری جز ۲۱ ص ۹۶ میں فرماتے ہیں :
وَ کَذٰلِکَ مُؤَمَّلُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ فِیْ حَدِیْثِہٖ عَنِ الثَّوْرِیْ ضُعَفٌکہ مؤمل بن اسماعیل جو ثوری سے روایت کرے اس میں ضعف ہے۔ اور یہ حدیث اس نے ثوری سے ہی روایت کی ہے ۔ چنانچہ بیہقی نے سنن کبریٰ میں اس حدیث کو بروایت مؤمل بن اسماعیل عن الثوری اخراج کیا ہے۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ حدیث وائل بن حجر جو کہ ابن خزیمہ نے روایت کی ہے صحیح نہیں ہے ۔
اسی طرح حدیث قبیصہ بن ہلب جس کو امام احمد نے مسند میں روایت کیا ہے صحیح نہیں ۔ اس میں سماک بن حرب ہے جس کو شعبہ و ابن مبارک وغیرہما نے ضعیف کہا (اکما ل) ابن مبارک نے سفیان سے نقل کیا کہ ضعیف ہے۔ امام احمد اس کو مضطرب الحدیث کہتے ہیں ۔ صالح جزرہ ضعیف کہتا ہے ۔ نسائی کہتے ہیں کہ جب وہ منفرد ہو حجت نہیں (میزان ) تو ثابت ہوا کہ سینہ پر ہاتھ باندھنے کی کوئی حدیث صحیح نہیں ۔ وَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقُّ۔
حدیث {۱۸}
عَنْ حُمَیْدِ الطَّوِیْلِ عَنْ أَنَسِِ بْنِِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اِذَ اسْتَفْتَحَ الصَّلوٰۃَ قَالَ سُبْحَانَکَ اللَّھُمَّ وَبِِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَ تَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ رَوَاہُ الطَّبْرَانِیْ فِیْ کِتَابِِہٖ الْمُفْرَدِ فِیْ الدُّعَائِ وَ اَسْنَادُہٗ جَیِّدَۃٌ آثَارَ السُّنَنْ([3])
ترجمہ : - حضرت سیدنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جب نماز شروع کرتے تو سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ اِلٰی آخِرِہٖ پڑھتے ۔ اس کو طبرانی نے روایت کیا۔
ترمذی([4])میں حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے بھی ایسا ہی آیا ہے ۔ امام ترمذی لکھتے ہیں کہ اکثر اہل علم تابعین وغیرہم کا اسی پر عمل ہے ۔ حضرت سیدنا عمر وعبد اﷲ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے اسی طرح روایت کیا گیاہے۔ ترمذی ابوداؤدابن ماجہ طحاوی میں حضرت سیدناابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے بھی اسی طرح آیا ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت سیدنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبغرض تعلیم سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ بالجہر پڑھتے([5]) ۔ جن روایتوں میں بجز سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ کے دوسری دعائیں آئی ہیں وہ ہمارے نزدیک محمول بر تہجد ہیں ۔ چنانچہ صحیح ابوعوانہ و نسائی میں اس کی تصریح بھی آئی ہے۔ یا محمول بر ابتداء امر([6])۔ جیسا کہ شرح منیہ میں ابن امیر حاج نے فرمایا ہے ۔
حدیث {۱۹}
عَنْ أَنَسٍٍ أَنَّ النَّبِِیَّ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم وَأَبَابَکْرٍ وَ عُمَرَ کَانُوْا یَفْتَتِحُوْنَ الصَّلوٰۃَ بِالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ رَوَاہٗ الشَّیْخَانِ ([7])
ترجمہ : -حضرت سیدنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانماز اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کے ساتھ شروع کرتے تھے۔
اس کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بسم اﷲ نہیں پڑھتے تھے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ بِسْمِ اللّٰہِ بالجہر نہیں پڑھتے تھے۔ چنانچہ صحیح مسلم کی دوسری روایت([8])میں اس کی تشریح ہے ۔ کہا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فَلَمْ اَسْمَعْ اَحَدًا مِّنْھُمْ یَقْرَئُ بِِسْمِِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ یعنی میں نے کسی کو نہیں سنا کہ وہ بِسْمِ اللّٰہِپڑھتا ہو ۔ پھر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع