دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Arbaeen-e-Hanfiya | اربعین حنفیہ

book_icon
اربعین حنفیہ

کئے جاتے ہیں ۔

ایک یہ کہ یہ حدیث ابن ابی شیبہ میں نہیں ۔ علامہ حیات سندھی نے اپنے رسالہ میں لکھا ہے کہ میں نے مصنف کا نسخہ دیکھا ۔ اس میں یہ حدیث ہے لیکن تَحْتَ السُّرَّۃِ  (ناف کے نیچے ) کا لفظ نہیں ۔

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس حدیث میں علقمہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے  اپنے باپ سے سماع ([1]) نہیں کیا۔

 پہلے اعتراض کا جواب معترض نے صرف علامہ حیات سندھی کی شہادت وہ بھی عدم وِجدان([2]) کی پیش کی۔ میں کہتا ہوں ممکن ہے علامہ حیات کو یہ لفظ نہ ملا ہو ۔ یا جس نسخہ میں انہوں نے دیکھا وہاں سہوِ کاتب سے رہ گیا ہو ۔ ہم اس لفظ کے موجود ہونے پر دو شہادتیں پیش کرتے ہیں ۔ وہ بھی اثبات پر کہ مثبت نافی پر مقدم ہوتا ہے ۔ حافظ قاسم بن قطلوبغا  تَخْرِیْجُ أَحَادِیْثِ الْإِخْتِیَارِ شَرْحُ الْمُخْتَارِ میں اس حدیث کو بحوالہ مصنف ابن ابی شیبہ لکھ کر فرماتے ہیں :

ھٰذَا سَنَدٌ جَیِّدٌ وَ قَالَ الْعَلاَّمَۃُ مُحَمَّدٌ أَبُوْ الطَّیِّبِ الْمَدَنِیْ فِیْ شَرْحِ التِّرْمِذِیْ ھٰذَا حَدِیْثٌ قَوِیٌّ مِنْ حَیْثُ السَّنَدِ وَ قَالَ الشَّیْخُ عَابِدُنِالسِّنْدِھِیْ فِی الطَّوَالِعِ الْأَنْوَارِ رِجَالُہٗ ثُقَاتٌ ۔ آثار السنن ص ۷۰

یہ سندجید ہے علامہ مدنی شرح ترمذی میں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث  مِنْ حیث السند قوی ہے ۔ شیخ عابد سندھی طوالع الانوار میں فرماتے ہیں کہ اس کے راوی سب ثقہ ہیں ۔ دیکھئے حافظ قاسم بن قطلو بغا جو کہ علامہ ابن الہمام کے ارشد تلامذہ میں سے ہیں جو فن حدیث و فقہ میں متبحر(بہت بڑے عالم)تھے اس حدیث کو ابن ابی شیبہ کے حوالہ سے لکھ کر اس کی سند کو جید فرماتے ہیں ۔ عابد سندھی کی شہادت بھی پیش کرتے ہیں ۔ پھر بھی معترضین کو انکار ہے ۔

اور سنئے علامہ قاسم سندھی اپنے رسالہ فوز الکرام میں فرماتے ہیں : ۔

اِنَّ الْقَوْلَ یَکُوْنُ ھٰذِہِ الزِّیَادَُ غَلَطًا مَعَ جَزْمِ الشَّیْخِ قَاسِمٍ بِعَزُوْھَا اِلَی الْمُصَنِّفِ وَ مُشَاھَدَتِیْ اِیَّاھَا فِیْ نُسْخَۃٍ وَ الْحَدِیْثِ وَالْأَثَرِلاَ یَلِیْقُ بِالْإِنْصَافِ قَالَ وَ رَأَیْتُہٗ بِعَیْنِیْ فِیْ نُسْخَۃٍ صَحِیْحِۃٍ عَلَیْھَا الْأَمَارَاتُ الْمُصَحَّحَۃُ وَ قَالَ فَھٰذِہِ الزِّیَادَۃُ فِیْ اَکْثَرِ نُسُخٍ صَحِیْحَۃٌ ۔  آثار السنن ص ۷۱

کہ یہ کہنا کہ زیادت تحت السرہ غلط ہے انصاف نہیں ۔ باوجود اس کے کہ شیخ قاسم نے یقینی طور پر اس کو مصنف کی طرف منسوب کیا اور میں نے بھی اس زیادت کو ایک نسخہ میں دیکھا اور شیخ عبد القادر مفتی حدیث کے خزانہ میں جو مصنف کا نسخہ ہے اس میں بھی موجود ہے ۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک صحیح نسخہ میں جس میں علامات تھیں اس زیادت کو دیکھا ۔ یہ زیادت یعنی لفظ تحت السرہ اس حدیث میں مصنف کے اکثر نسخوں میں صحیح ہے ۔

علامہ ظہیر احسن نیموی اپنے رسالہ درۃ الغرہ میں لکھتے ہیں کہ مدینہ منورہ کے قبہ محمودیہ میں جو کتب خانہ ہے اس میں مصنف کا نسخہ ہے ۔ اس میں بھی لفظ تحت السرہ اس حدیث میں موجود ہے ۔

اب انصاف فرمائیے کہ علامہ قاسم بن قطلوبغا نے مصنف میں اس حدیث کو بلفظ تحت السرہ دیکھا۔ پھر علامہ قاسم سندھی نے اپنے دیکھنے کی شہادت دی اور مصنف کا پتا بھی بتایا۔ پھر علامہ ظہیر احسن نیموی نے بھی دیکھا اور قُبہ محمودیہ کے کتب خانہ کا پتا بھی دیا۔ ان کی چشم دید شہادت کے بعد بھی اگر کوئی یہی کہتا جائے کہ مصنف ابن ابی شیبہ میں اس حدیث میں یہ لفظ نہیں تو اس ہٹ دھرمی کا کیا علاج ہوسکتا ہے ؟ علامہ حیات کا یہ کہنا کہ شاید کاتب کی نظر چوک گئی ہو اور اس نے نخعی کے اثر کا یہ لفظ حدیث مرفوع میں لکھ دیا ہو ہم کہتے ہیں کہ یہ ہوسکتا ہے اگر صرف ایک ہی نسخہ میں یہ لفظ ہو ۔ جب اس لفظ کا اس حدیث میں مصنف کے اکثر نسخوں میں پایا جانا ثابت ہے تو یہ احتمال صحیح نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ سب کاتبوں کا اسی حدیث میں آکر چوک جانا مانا نہیں جاسکتا۔ ہاں ! یہ ہوسکتا ہے کہ جس نسخہ کو علامہ حیات نے دیکھا ہو اس میں کاتب کے سہو سے یہ لفظ رہ گیا ہو۔

دوسرے اعتراض کا جواب : علقمہ نے اپنے باپ سے سنا ہے اور یہی صحیح ہے ۔ علقمہ کے بھائی عبد الجبار نے اپنے باپ سے نہیں سنا وہ اپنے باپ کی موت کے بعد پیدا ہوئے ۔

ترمذی ابواب الحدود ص ۱۷۵ میں لکھتے ہیں : ۔

سَمِعْتُ مُحَمَّدًا یَّقُوْلُ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ اَبِیْہِ وَ لاَ اَدْرَکَہُ یُقَالُ اِنَّہٗ وُلِدَ بَعْدَ مَوْتِ اَبِیْہِ بِاَشْھُرٍ ۔

کہ میں نے امام بخاری سے سنا وہ فرماتے تھے کہ عبد الجبار بن وائل نے اپنے باپ سے نہیں سنا اورنہ ان کو پایا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ باپ کی موت کے کئی ماہ بعد پیدا ہوئے۔

پھر چند سطر آگے صاف تصریح کرتے ہیں کہ :

عَلْقَمَۃُ بْنُ وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ سَمِعَ عَنْ اَبِِیْہِ وَ ھُوَ اَکْبَرُ مِنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ لَمْ یَسْمَعْ عَنْ اَبِیْہِ۔  

یعنی علقمہ نے اپنے باپ سے سنا ہے وہ عبدالجبار سے بڑے ہیں ۔ عبد الجبار نے اپنے باپ سے نہیں سنا۔

نسائی ص ۱۰۵ باب رَفْعُ الْیَدَیْنِ عِنْدَ الرَّفْعِ مِنَ الرُّکُوْعِ میں ایک حدیث ہے جس میں علقمہ کہتے ہیں ۔ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ۔ اسی طرح بخاری کے جز ء رفع یدین ص ۹ میں علقمہ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ  کہتے



[1]   نہیں۔ سننا۔

[2]    نہ پایا جانا ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن