30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ
کچھ مصنف علیہ الرحمۃ کے بارے میں
فقیہِ اعظم مولانا ابو یوسف محمد شریف قدس سرہ (کوٹلی لوہاراں ، سیالکوٹ)
حنفیت و سنیت کے بطلِ جلیل مولانا محمد شریف ابن مولانا عبد الرحمن سیالکوٹی کوٹلی لوہاراں ضِلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ، علومِ دینیہ کی تکمیل والدِ ماجد سے کی ، ان کے وصال کے بعد برِصغیر پاک و ہند کے ممتاز علماء سے کسبِ فیض کیا۔ حضرت خواجہ حافظ عبد الکریم نقشبندی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ سے بھی اجازت و خلافت حاصل تھی۔ فقیہِ اعظم کا لقب آپ ہی نے عطا فرمایا تھا۔ حضرت فقیہِ اعظم نے فقہ حنفی کی بے بہا خدمات انجام دی ہیں ۔ ہفت روزہ ’’ اہلِ حدیث‘‘امر تسر میں آئے دن اہلِ سنت احناف کے خلاف مضامین شائع ہوتے رہتے تھے۔ حضرت فقیہ ِ اعظم کی کوششوں سے امرتسر ہی سے ’’ الفقیہ ‘‘ کے نام سے ہفت روزہ جاری ہوا جس میں ان اعتراضات کے جوابات نہایت تحقیق و متانت سے دئے جاتے تھے۔ اس جریدے کے علاوہ دیگر مؤقر جرائد میں بھی آپ کے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں ۔ آپ عالمِ شریعت اورشیخِ طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ مقبول ترین مقرر بھی تھے ۔ وعظ و ارشاد میں اپنا ایک مخصوص اسلوب رکھتے تھے ۔
حضرت فقیہ اعظم نے پنجاب کے اطراف و اکناف کے علاوہ کلکتہ اور بمبئی وغیرہ مقامات تک سنیت و حنفیت کا پیغام پہنچایا۔ آل انڈیا سنی کانفرنس ‘ بنارس کے تاریخی اجلاس میں شرکت فرمائی اور تحریکِ پاکستان کی حمایت میں جگہ جگہ تقریریں کیں اور مسلمانوں کو مسلم لیگ کی حمایت و معاونت پر تیار کیا۔
آپ کے مریدین کا حلقہ نہایت وسیع ہے جو ملک کے طول و عرض میں موجود ہے ۔
آپ نے تصنیف و تالیف کی طرف بھی توجہ فرمائی ، چند تصانیف یہ ہیں : -
۱۔ تائید الامام : (حافظ ابوبکر ابن ابی شیبہ کی تالیف الرد علیٰ ابی حنیفہ کا محققانہ رد )‘ ۲۔ نماز حنفی مدلل ‘ ۳۔ صداقت الاحناف ‘ ۴۔ کتاب التراویح ‘
۵۔ ضرورتِ فقہ ‘ ۶۔ کشف الغطائ‘ ۷۔ اربعین نبویّہ ‘
۸۔ اربعین حنفیہ ۔
آپ نے ۹۰ سال کی عمر میں ۱۵جنوری ۱۹۵۱ء میں داعی اجل کو لبیک کہا۔
دورے والی مسجد کوٹلی لوہاراں ضلع سیالکوٹ میں آپ کا مزار پُر انوار ہے ۔
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
نحمدہ‘ ونصلّی علی رسولہ الکریم
امّا بعد فقیر ابو یوسف محمد شریف کوٹلوی برادران اسلام کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ اس زمانہ میں جبکہ لوگ دین میں نہایت سست ہوگئے ہیں ۔ نہ اسلام کی خبر نہ مذہب کا کچھ پتا۔ مخالفین اسلام دن بدن ترقّی پر ہیں اور اسلام میں طرح طرح کے فساد برپا ہیں ۔ شیعہ جو کہ اپنے مذہب کو چھپانا ثواب سمجھتے تھے آج اعلانیہ اپنے مذہب کی اشاعت میں سرگرم ہیں ۔ اخباروں میں رسالوں میں اہل سنت کی تردید کررہے ہیں ۔ اسی طرح مرزائی ([1]) کہ ان کا بچہ بچہ مناظر ہے کئی اخبار میں ، ٹریکٹ ([2]) مذہب کی اشاعت میں نکال رہے ہیں ۔ اور وہابیوں کی تبلیغ تو یہاں تک اثر کرچکی ہے کہ لوگوں کو ان کے خروج کا احساس ہی نہیں ہورہا۔ گاؤں گاؤں میں ان کی انجمنیں ہیں ۔ وہ سب ایک کانفر نس کے ماتحت کام کررہی ہیں ۔ ان کے تنخواہی مبلغ شہر بہ شہر ، دیہہ بدیہہ ([3]) پھرتے ہیں ۔ اور مذہب کی تبلیغ میں سرتوڑ کوشش کررہے ہیں ۔ لِسَانُھُمْ اَحْلٰی مِنَ السُّکْرِ([4]) کا مصداق بن کر میٹھی میٹھی باتوں سے بھولے بھالے احناف کو دام تزویر ([5]) میں پھاند لیتے ہیں ۔ امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی بظاہر تعریف کرتے ہیں مگر حقیقت میں عوام کو مغالطہ میں ڈالتے ہیں مگر حنفی ([6]) ہیں کہ ان کی ظاہری حالت دیکھ کر ان پر فریفتہ ([7]) ہوجاتے ہیں ۔ کوئی تو رشتہ داری کے لحاظ سے ، کوئی مالداری کے پاس سے ، کوئی روزگار کی ضرورت کے لیے ، کوئی تنخواہ کی ترقی کے لئے ، کوئی محض جہالت سے وہابیت
[1] مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار ۔ اس شخص نے اپنی نُبُوّت کا دعوی کیا اور انبیاء کرام علیہم السلام کی شان میں نہایت بے باکی کے ساتھ گستاخیاں کیں ۔ اور حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے خاتم النّبیّن ہونے کا انکار کیا (ملخّص ازبہارشریعت ، ۱ / ۵۶)۔
[2] لٹریچر
[3] گاؤں گاؤں ۔
[4] اُن کی زبانیں شکر سے زیادہ میٹھی ہیں ۔
[5] دھوکہ بازی کے جال میں پھنسا لیتے ہیں ۔
[6] امام اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پیروکار
[7] قربان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع