دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Arbaeen-e-Hanfiya | اربعین حنفیہ

book_icon
اربعین حنفیہ

یہ حدیث اذان میں اصل ہے ۔ اس میں ترجیع ([1])نہیں ۔ معلوم ہوا کہ ترجیع سنت نہیں ۔ قَالَ ابْنُ الْجَوْزِیْ۔ حضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  جو کہ سرور عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے سامنے اذان دیا کرتے تھے ۔ اگر ترجیع مسنون ہوتی تو حضور عَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  حضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو امر فرماتے اورحضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کم سے کم ایک بار تو ترجیع کے ساتھ اذان دیتے ۔

ابو محذورہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ([2]) جس کی اذان میں ترجیع آئی ہے وہ دربارہ تعلیم ہے ۔ کہ ابو محذورہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی آواز کو اتنا لمبانہ کیاکہ جتنا حضور عَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  کا ارادہ تھا۔ اس لئے فرمایا کہ

اِرْجِعْ وَ أمْدُدْ مِنْ صَوْتِکَ ۔

 پھر کہہ اور آواز بلندکر ۔

علاوہ اس کے خود ابو محذورہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے اذان بلا ترجیع آئی ہے۔ امام طحاوی نے عبد العزیز بن رفیع سے روایت کیا ہے ۔ اس نے کہا میں نے سنا   ابو محذورہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو ، وہ دو دوبار آذان اور دو دو بار اقامت کہتے تھے۔ جو ہر النقی میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے ۔ اور یہی مذہب ہے امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا ۔

وہ جو بعض روایات میں آیا ہے کہ تخفض بھا صوتک ثم ترفع صوتک ([3])  وہ ضعیف ہے ۔ اس میں حارث بن عبید ابو قدامہ راوی ہے جس کو امام احمد مضطرب الحدیث اور ابن معین ضعیف کہتے ہیں ۔ نسائی نے بھی کہا ہے کہ وہ قوی نہیں ۔

حدیث {۱۶}

عَنْ اَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم إِذَا افْتَتَحَ الصَّلوٰۃَ کَبَّرَ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّیٰ یُحَاذِيَ إِبْھَامَیْہِ اُذُنَیْہِ ثُمَّ یَقُوْلُ سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالیٰ جَدُّکَ وَ لاَ إِلٰہَ غَیْرُکَ۔  رَوَاہٗ الدَّارُقُطْنِیْ وَ قَالَ اَسْنَادُہٗ کُلُّھُمْ ثُقَاتٌ کَذَا فِی الزّیْلَعِیْ([4])

ترجمہ : حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جب نماز کوشروع کرتے تو تکبیر کہتے پھر دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے انگھوٹھے دونوں کانوں کے برابر ہوجاتے پھر سُبْحَانَک اللّٰھُمَّ  آخر تک پڑھتے ۔ اس کو دارقطنی نے روایت کیا ۔ اس کے سب رواۃثقہ ہیں ۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تکبیر تحریمہ کیلئے ہاتھ کانوں کے برابر اٹھانے چاہئیں ۔ ایسا ہی ابوداؤد میں وائل کی حدیث میں آیا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو جب شروع کیا نماز کو تو دونوں ہاتھ کانوں کے برابرتک اٹھاتے ۔ کہا وائل نے میں ان کے پاس آیا تو دیکھا کہ اپنے ہاتھوں کو سینوں تک اٹھاتے ہیں ۔ اور ان پر بارانیاں اور لوئیاں تھیں ۔ یعنی سردی کے سبب ہاتھوں کو باہر نہیں نکالتے تھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن روایتوں میں مونڈھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا آیا ہے وہ عذر سردی سے تھا یا یہ کہ مونڈھوں کے برابر ہاتھ ہوں ۔ اور دونوں انگھوٹھے کانوں کے برابر ہوں ۔ چنانچہ ابوداؤد میں وائل کی حدیث میں آیا ہے کہ اس نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو دیکھا جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ نے دونوں ہاتھ اٹھائے۔ یہاں تک کہ مونڈھوں کے مقابل ہوگئے اور برابر کیا دونوں ابہاموں (انگوٹھوں ) کو اپنے کانوں کے ۔ شرح مسند امام ص ۲۴۴۔

حدیث {۱۷}

عَنْ وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ قَالَ رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم وَضَعَ یَمِیْنَہ‘ عَلیٰ شِمَالِہٖ فِيْ الصَّلوٰۃِ تَحْتَ السُّرَّۃِ۔ اَخْرَجَہٗ ابْنُ اَبِیْ شِیْبَۃَ الْمُصَنِف لِاِبْنِ اَبِیْ شِیْبَۃَ ۱/۳۹۰ ، تَدْرِیْبُ الرَّاوِیْ ۱/۱۸۸ آثَارُ السُّنَنِ ۱۷

ترجمہ : حضرت وائل بن حجر کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کو کہ آپ نے نماز میں دایاں ہاتھ بائیں پر ناف کے نیچے رکھا ۔

اس کو ابن ابی شیبہ نے روایت کیا۔

شیخ قاسم بن قطلوبغا حنفی نے فرمایا کہ اس کی سند جیّد ہے (شَرْحُ تِرْمِذِیْ لِاَبِیْ الطَّیِّبِ ) سندھی نے اس کے رجال کو ثقہ کہا۔ محمد مدنی نے اس کی سند کو قوی فرمایا ۔ اس حدیث پر دو اعتراض



[1]   پہلے پست اورپھر بلند آواز سے شھادتین (یعنی اَشْھَدُ ۔ ۔ والے کلمات) دہرانا۔

[2]   حافظ ابو عمر ابن عبد البر لکھتے ہیں : حضرت ابو محذورہ قرشی ص کے نام میں کافی اختلاف ہے ، بہر حال اکثریت کی تحقیق یہ ہے کہ ان کا نام سمرہ بن سعیدہے۔ ۸ھ میں جب رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم غزوئہ حنین سے واپس ہورہے تھے ، اسی اثناء میں حضرت ابو محذورہ اپنے دس مشرک ساتھیوں کے ساتھ گزر رہے تھے ، راستے میں رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مؤذن کی آواز سنی ، حضرت ابو محذورہ نے اذان کی نقل اتارنا شروع کردی ، حضرت ابو محذورہ بلند آواز اور خوش الحان تھے اور بطور تمسخر اذان کی نقل اتار رہے تھے ، ان کی قسمت نے یاوری کی اور سرکار ِ ابد قرار ا نے ان کی آواز سن لی ان کو بلایا اور ان کے باقی ساتھیوں کو واپس کردیا ، رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا اب آذان دو ، آپ آذان کا ایک ایک کلمہ پڑھتے اور ان سے پڑھواتے ۔ ابو محذورہ کہتے ہیں کہ مجھے اس وقت حضور سے زیادہ کوئی ناپسند نہ تھا۔ اورنہ ہی حضور کا حکم ماننا پسند تھا ، تاہم میں نے حضور کے کہنے سے آذان دی ، اذان کے بعد سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی ، پھر اپنا دستِ مبارک میری پیشانی پر پھیرا ، اور ناف تک لے گئے ، ہاتھ کا پھیرنا کیا تھا میری قسمت پھر گئی ، میرے دل میں رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے خلاف جس قدر کینہ وبغُض تھا سب جاتا رہا ، آپ انے مجھے برکت کی دعا د ی اور میں آپ ا کا گرویدہ ہوکر مسلمان ہوگیا۔ (الاستیعاب علی ہامش الاصابہ ۴ ، ۱۷۷ )

ع               نگاہِ نبی  ا  میں وہ تاثیر دیکھی                                 بدلتی کروڑوں کی تقدیر دیکھی

 

[3]   ان میں اپنی آواز پست کر پھر بلند کر ۔

[4]   الدار قطنی ۱ ، ۳۰۰۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن