دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Arbaeen-e-Hanfiya | اربعین حنفیہ

book_icon
اربعین حنفیہ

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گردن کا مسح کرنا مستحب امر ہے ۔ چونکہ اس میں مواظبت ([1]) ثابت نہیں اس لئے سنت نہیں ۔ اس کی تائید میں وہ حدیث ہے جس کو دیلمی نے مسند فردوس میں ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کیا ہے کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :

مَنْ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلیٰ عُنُقہٖ وَقَی الْغُلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔

ترجمہ : کہ جو شخص وضو ٔ  کرے اور گردن کا مسح کرے وہ قیامت کے دن طوق سے محفوظ رہے گا۔ احیاء السنن ص ۳۸

اِس کی تائید میں وہ حدیث ہے جس کو امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے روایت کیا کہ طلحہ اپنے باپ سے وہ اس کے جد سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو دیکھا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سر کا مسح کرتے یہاں تک کہ قذال(کیاڑی کا اول حصہ) ([2]) تک پہنچ جاتے جو کہ متصل ہے گردن کی اگلی جانب کو ۔ ابن تیمیہ نے منتقی  ص ۱۸ میں اس حدیث سے مسح گردن کے ثبوت پر استدلال کیا ہے ۔ نیز ابو عبید کتاب الطہور میں موسی بن طلحہ سے روایت کرتے ہیں :

اَنَّہ‘ قَالَ مَنْ مَسَحَ قَفَاہُ مَعَ رَاسِہٖ وَقَی الْغُلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔

 موسیٰ بن طلحہ فرماتے ہیں جو شخص پشت گردن کا مسح سر کے ساتھ کرے وہ قیامت کے دن طوقِ نار سے محفوظ رہے گا (تلخیص ص ۳۴) علامہ زیلعی نے تخریج ہدایہ کے ص ۸ میں مسند بزار کی روایت سے رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے وضو کی حکایت نقل کی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں :

ثُمَّ مَسَحَ عَلیٰ رأَسِہٖ ثَلٰثاً وَ ظَاھِرِ اُذُنَیہِ ثَلثاً وَظَاھِرِِ رَقَبَتِہِ۔

اس حدیث میں ظاہر گردن کا مسح ثابت ہوتا ہے۔ بہر حال مسح گردن مستحب ہے بدعت نہیں ۔ شیخ ابن الہمام فتح القدیر میں فرماتے ہیں :

اَلْاِسْتِحْبَابُ یَثْبُتُ بِالضَّعِیْفِ غَیْرَ الْمَوْضُوْعِ۔

ترجمہ : کہ حدیث ضعیف سے استحباب ثابت ہوتا ہے۔

امام نووی کتاب الاذکار ص ۱۶ میں فرماتے ہیں :

قَالَ الْعُلَمَائُ مِنَ الْمُحَدِّثِیْنَ وَالْفُقَھاء وَغَیْرُھُمْ یَجُوْزُ وَ یَسْتَحِبُّ الْعَمَلُ فِي الْفَضَائِلِ وَالتَّرْغِیْبِ وَالتَّرْھِیْبِ بِالْحَدِیْثِ الضَّعِیْفِ مَالَمْ یَکُنْ مَوْضُوْعًا۔

ترجمہ : مُحَدِّثِیْن و فُقَہَاء وغیرہم فرماتے ہیں کہ ضعیف حدیث پر فضائلِ اعمال اور ترغیب([3]) و ترہیب([4]) میں عمل کرنامستحب ہے ۔ ہاں موضوع ([5])پر عمل جائز نہیں تو حدیث مسح گردن اگرچہ ضعیف ہے اس پر عمل کرنا محدثین و فقہاء کے نزدیک مستحب ہے اس لئے کہ یہ فضائل اعمال میں سے ہے ۔ اس زمانہ کے مدعیان عمل بالحدیث پر افسوس ہے کہ انہوں نے مسح گردن بالکل ترک کردیا ہے ۔ بلکہ بدعت([6])  کہتے ہیں ۔ اﷲ تعالیٰ ان کو سمجھ دے۔

حدیث {۱۲}

  عَنْ عَائِشَۃَ رَضِيَ اﷲ ُ تَعَالیٰ عَنْھَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مَنْ اَصَابَہ‘ قَیْئٌ أَوْ رُعَافٌ أَوْ قَلْسٌ أَوْمَذْيٌ فَلْیَنْصَرِِفْ فَلْیَتَوَضَّاْ ثُمَّ لِیَبْنِِ عَلیٰ صَلوٰتِہٖ وَھُوَ فِيْ ذٰلِکَ لَایَتَکَلَّمْ۔  رواہ ابن ماجۃ۔

ترجمہ : - حضرت سَیِّدَتُنَاعائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے فرمایارسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے جس شخص کوقے یانکسیریاقلس(منہ بھرقے) آجاوے یا مذی نکلے تو وہ نماز سے ہٹ جائے پھر وضو کرے پھر اپنی نماز پر بناکرے اور اس کے درمیان کلام نہ کرے ۔ ([7])

اس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ۔ یہ حدیث مرسل صحیح ہے اسی کی تائید میں وہ حدیث جس کو عبد الرزاق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنے مصنف میں سیدنا ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کیا کہ انہوں نے کہا جب کسی شخص کو نکسیر آجاوے نماز میں یا قے کا غلبہ ہوجائے یا مذی پائے سو وہ شخص ہٹ جائے پھر وضو کرے پھر اپنی جگہ آجائے اور باقی نماز کو گذشتہ نماز پر مبنی کرکے تمام کرے ۔ جب تک کلام نہ کیا ہو ۔ اس کی سند صحیح ہے۔ معلوم ہوا کہ منہ بھرقے([8]) اور


 



[1]    ہمیشگی۔

[2]     گدّ ی۔

[3]     اعمالِ صالحہ کیلئے شوق بڑھانا۔

[4]     گناہوں کے عذاب سے ڈرانا۔

[5]     من گھڑت روایت۔

[6]     بدعت بُرا طریقہ بدعت کے بارے میں حضرت ابو حجیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : جس نے اچھا طریقہ ایجاد کیا کہ اس کے بعد لوگ اس پر عمل پیرا ہوئے تو سب عمل کرنیوالوں کے برابر اس کو ثواب ملے گا اور ان کے ثواب میں کمی نہ ہوگی۔ اور  جس نے برا طریقہ نکالا کہ لوگ اس کے بعد اس روش پر چلے تو سب کا گناہ اس کے سر ہوگا جبکہ ان کے گناہوں سے کچھ کم نہ ہوگا۔ (سّنن ابن ماجہ ، المقدّمۃ ، ۱ ، ۱۹ )اس حدیث ِ پاک کی روشنی میں معلوم ہوا کہ بدعت اچھے یا بُرے طریقہ کو کہتے ہیں۔ جن احادیث میں بدعت کی مذمت آئی ہے اُس سے مراد بُری بدعت ہے ۔

[7]   سنن ابن ماجہ۔ باب ماجاء فی البناء علی الصّلوۃص۶۹۔

[8]   یعنی جسے بِلا تکلّف نہ روکا جاسکے ۔ (عالمگیری ۱ ، ۲۰۴) ، قے کے احکام پیشِ خدمت ہیں ۔ (الف) وُضو کی حالت میں (جان بوجھ کر کریں یا خود بخود ہوجائے دونوں صورتوںمیں) اگر مُنہ بھر قے آئی اور اس میں کھانا ، پانی یا صَفْراء (کڑوا پانی ) آیا تو وضو ٹوٹ جائے گا(الدّرالمختار ۳ ، ۳۹۳)(ب) اگر بَلْغَم کی منہ بھرقے ہوئی تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ (الدرالمختار ۳ ، ۳۹۴) (ج) بہتے خون کی قے وضو توڑ دیتی ہے۔ (د) بہتے خون کی قے سے وضو اس وقت ٹوٹے گا جب خون تھوک سے مغلوب نہ ہو۔ (الشّامی ۱ ، ۲۶۷) یعنی خون کی وجہ سے قے سُرخ ہور ہی ہے تو خون غالب ہے وضو ٹوٹ گیا اور اگر تھوک زیادہ ہے اورخون کم تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اس کی نشانی یہ ہے کہ پوری قے جو تھوک پر مشتمل ہے وہ زرد (پیلی) ہے۔  (ہ) اگر قے میں جما ہوا خون نکلا اور وہ منہ بھر سے کم ہے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ ( بہارِ شریعت ۲ / ۱۸) منہ بھر قے (علاوہ بلغم کے ) بالکل پیشاب ہی کی طرح ناپاک ہے۔ اس کا کوئی چھینٹا کپڑے یا جسم پر نہ گرنے پائے اس کی احتیاط فرمائیں۔ آج کل لوگ اس میں بڑی بے احتیاطی کرتے ہیں ، کپڑوں پر چھینٹے پڑنے کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اورمنہ وغیرہ پر جو ناپاک قے لگ جاتی ہے اُس کو بھی بلا جھجک اپنے کپڑوں سے پونچھ لیتے ہیں ۔ اﷲ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں ہر قسم کی نجاست سے بچائے ۔ امین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن