دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Arbaeen-e-Hanfiya | اربعین حنفیہ

book_icon
اربعین حنفیہ

نسائی میں اس طرح آیا ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنماز کو اس کے وقت میں پڑھا کرتے تھے مگر مُزدلفہ اور عرفات میں ۔ اس کی سند صحیح ہے ۔ معلوم ہوا کہ جن حدیثوں میں جَمَعَ بَیْنَ الصَّلٰوتَیْنِ آیا ہے ان سے مراد جمع صوری([1])ہے کہ صورتاً جمع ہیں اور حقیقتاً اپنے اپنے وقت میں ادا کی گئیں ۔ احادیث میں اس کی صراحت([2]) بھی موجود ہے۔ امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے مؤطا میں لکھا ہے کہ حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے تمام آفاق([3]) میں فرمان نافذ فرمایا کہ کوئی شخص دو نمازیں جمع کرنے نہ پائے اور فرمایا کہ ایک وقت میں دو نمازیں جمع کرنا گناہ کبیرہ ہے۔

الحاصل جمع دو قسم ہے ۔ جمع تقدیم ۔ مثلاً ظہر کے ساتھ عصر یا مغرب کے ساتھ عشاء پڑھ لے ۔ اس کے متعلق کوئی حدیث صحیح نہیں ۔ دوسری جمع تاخیر یعنی ظہر یا مغرب کو قصداً یہاں تک تاخیر کرنا کہ وقت نکل جائے پھر عصر یا عشاء کے وقت دونوں نمازوں کا پڑھنا۔ اس بارے میں جو احادیث آئی ہیں یا تو ان میں صراحتاً جمع صوری مذکور ہے یا مجمل ہے محتمل ۔ جو اسی صریح مفصل پر محمول ہے ۔ البتہ عرفہ میں جمع تقدیم اور مزدلفہ میں جمع تاخیر بوجہ نسک([4])

باتفاق امت جائز ہے اور کسی موقع پر جائز نہیں ۔  وَالْبَسْطُ فِی کِتَابِنَا تَائِیْدُ الْاِمَامِ فَلْیَنْتَظِرْ ثَمَّہٗ ۔ ([5])

حدیث {۱۰}

عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ شَقِیْقِ بْنِ سَلْمَۃَ قَالَ شَھِِدْتُّ عَلِیَّنِ ابْنِ أَبِيْ طَالِبٍ وَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ تَوَضَّاَ ثَلاثًا ثَلاثًا وَ اَفْرَدَ الْمَضْمَضَۃَ مِنَ الْاِسْتِنْشَاقِ ثُمَّ قَالَا ھٰکَذَا رَاَیْنَا رَسُوْلَ اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم تَوَضَّأَ ۔  رَوَاہٗ عَلِیِّ بْنِ السُّکَنِ فِي صِحَاحِہِ ، آثَارُالسُّنَنِ([6])

ترجمہ : - حضرت ابووائل شقیق بن سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ میں حضرت سیدنا علی اور حضرت سیدنا عثمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے پاس حاضر ہوا ان دونوں نے تین تین بار وضو کے اعضاء کو دھویا اور کلی کو ناک میں پانی ڈالنے سے علیٰحدہ کیا ۔ پھر فرمایا کہ ہم نے رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ۔

اس حدیث کو ابن السکن نے اپنی صحاح میں روایت کیا ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کلی الگ تین بار اور ناک میں الگ تین بار پانی ڈالنا چاہیئے۔ یعنی دونوں کے لئے الگ الگ پانی لینا چاہیئے۔ امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا یہی مذہب ہے۔اسی طرح ابوداؤد([7]) کی حدیث میں آیاہے کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کا سوال ہوا۔ تو انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت سیدنا عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دیکھا کہ ان کو وضو کا سوال ہوا۔ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے پانی منگوایا ۔ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس پانی کا برتن لایا گیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے داہنے ہاتھ پر اس کو جھکا یا ۔ یعنی اس برتن سے داہنا ہاتھ دھویا پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے داہنے ہاتھ کو پانی میں ڈال کر تین بار کلی کی اور تین بار ناک میں پانی ڈالا پھر تین بار منہ دھویا۔ پھر تین بار دایاں ہاتھ دھویا اور بایاں ہاتھ تین بار دھویا ۔ پھر اپنا ہاتھ ڈال کر پانی لیا اور سر کا مسح کیا اور کانوں کے ظاہر و باطن کا ایک مسح کیا۔ پھر دونوں پاؤں دھوئے اور فرمایا کہ وضو کے سائل کہاں ہیں ؟ میں نے رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے ۔ آثار السّنن میں اس حدیث کی سند کو صحیح لکھا ہے ۔ اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ مضمضہ([8]) اور استنشاق ([9])الگ الگ کرنا چاہیئے البتہ جن روایتوں میں جَمَعَ بَیْنَ الْمَضْمَضَۃِ وَ الْاِسْتِنْشَاقِ آیا ہے وہ جواز پر محمول ہیں لیکن افضل فصل ([10])ہے ۔

 

حدیث {۱۱}

عَنْ اِبْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ بِیَدَیْہِ عَلیٰ عُنُقِہٖ وَقَی الْغُلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (رواہ ابو الحسن بن فارس : بِاَسْنَادِہِ وَ قَالَ ھٰذَا اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالیٰ حَدِیْثُ صَحِیْحٌ۔  تَلْخِیْصُ الْحَبِیْرِ ۔ ([11])

ترجمہ : -  حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ رسول کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا جو شخص وضو کرے اور اپنے دونوں ہاتھوں سے گردن کا مسح کرے وہ قیامت کے دن طوق سے محفوظ رکھا جائے گا ۔

 



[1]    اس سے مراد یہ ہے کہ واقع میں ہر نماز اپنے وقت میں واقع ، مگر ادا میں مل جائیں جیسے ظہر اپنے آخر وقت میں پڑھی کہ اس کے ختم پروقت عصر آگیا۔ اَب فوراً عصر اول وقت پڑھ لی۔ فتاویٰ رضویّہ جدید ، ۵ / ۱۶۰۔ اَب یہ دونوں دیکھنے میں ایک ساتھ نظر آرہی ہیں ۔ تو اس لئے اسے جمع صوری کہتے ہیں ۔ حقیقت میں دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت میں ادا کی گئیں ،

[2]    وضاحت ۔

[3]    تمام شہروں میں ۔

[4]    قربانی ۔

[5]    مزید وضاحت ہماری کتاب تائید الامام (جو حافظ ابو بکر بن شیبہ کی تالیف الرد علی ابی حنیفۃ  کا محققانہ رد) میں ہے چاہو تو وہاں دیکھ لو۔

[6]    تلخیص الحبیر۱ / ۷۹ ، الاحادیث المختارہ ۱ / ۵۷۲۔

[7]    السّنن لابی داؤد باب صفۃ وضؤ النّبي صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ۱ ، ۷۱

[8]     کُلّی کرنا 

[9]    ناک میں پانی چڑھانا۔

[10]    الگ الگ کرنا ۔

[11]     تلخیص الحبیر ۱ ، ۹۳۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن