30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث {۹}
عَنْ ابِيْ قَتَادَۃَ قَالَ :
قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اَمَا اَنَّہ‘ لَیْسَ فِيْ النَّوْمِ تَفْرِیْطٌ اِنّمَا التَّفْرِیْطُ عَلَی مَنْ لَّمْ یُصَلِّ حَتَّی یَجِیْئَ وَقْتُ صَلوٰۃِ الْاُخْرٰی۔ رَوَاہٗ مُسْلِمٌ ([1])
ترجمہ : - سرور دوعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ سوجانے میں تفریط نہیں ([2])۔ تفریط (یعنی جرم ) اس پر ہے جو نہ نماز پڑھے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آجائے ۔
اس کو مسلم نے روایت کیا ۔ یہ حدیث قولی اس امر پرنص قاطع([3]) ہے کہ جوشخص نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آجائے وہ مفرط ہے یعنی قصور کرنے والاہے ۔ معلوم ہوا کہ جو شخص ایک وقت میں دو نمازیں جمع کرے وہ مفرط ہے کیونکہ اس نے نماز نہ پڑھی یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آگیا۔ پھر اس نے دونوں کو جمع کیا تو بموجب اس حدیث کے وہ مجرم ٹھہرا۔ اسی مضمون کی حدیث ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے بھی آئی ہے جس کو امام طحاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے روایت کیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا کہ کوئی نماز اس وقت تک فوت نہیں ہوتی جب تک دوسری نماز کا وقت نہ آجائے ۔
اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ نماز میں کوتاہی کرنا یہ ہے کہ تم اس میں اتنی دیر کرو کہ دوسری نماز کا وقت آجائے ۔ یہ دونوں حدیثیں امام طحاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے روایت کی ہیں ۔ آثار السنن میں دونوں کو صحیح لکھا ہے۔
قرآن شریف میں اﷲ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے :
اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا
ترجمۂ کنز الایمان : بے شک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے ۔ (النساء ۵،۱۰۳)
یعنی نہ وقت کے پہلے صحیح نہ وقت کے بعد تاخیر روا۔ بلکہ ہر نماز فرض ہے کہ اپنے وقت پر ادا ہو ۔ نیز آیت :
حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ ۔
ترجمۂ کنزالایمان : نگہبانی کرو سب نمازوں کی اور بیچ کی نماز کی۔ (البقرۃ ۲،۲۳۸)
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر نماز کی محافظت کا حکم ہے ۔ خصوصاً نماز وسطیٰ ([4]) کا کہ کوئی نماز وقت سے اِدھر اُدھر نہ ہو ۔ بیضاوی اور مدارک میں ایسا ہی لکھا ہے ۔ اور آیت :
وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ۔
ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں ۔ (المومنون ۱۸،۹)
میں انہی لوگوں کو جنت کے سچے وارث فرمایا ہے جو نماز کو وقت سے بے وقت نہیں ہونے دیتے ۔ حضرت سیدنا عبد اﷲ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آیت :
فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ :
ترجمۂ کنزالایمان : تو اُن کے بعد اُنکی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں ۔ (مریم ، ۱۶/۵۹)
کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
أَخَّرُوْھَا عَنْ مَوَاقِیْتِھَا وَصَلَّوْھَا لِغَیْرِ وَقْتِھَا یہ لوگ جن کی
مذمت اس آیت میں ہے وہ ہیں جو نمازوں کو ان کے وقت سے ہٹاتے ہیں اور غیر وقت میں پڑھتے
ہیں ۔ عمدۃ القاری و معالم و بغوی (۱)ہم تیسری حدیث کے ضمن میں
عبد اﷲ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ کی متفق علیہ حدیث لکھ آئے ہیں
جس میں عبد اﷲ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صَلَّی
اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ صَلَّی
اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے نماز کے غیر وقت میں نماز پڑھی ہو۔ سوائے دو نمازوں کے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مغرب اور عشاء کو غیر وقت میں جمع کیا۔ اور فجر کو اس کے وقت سے
پہلے پڑھا ۔
[1] الصحیح لمسلم ۱ ، ۴۷۳ ، السنن لبیھقی الکبریٰ ۱ ، ۳۷۶ ، السنن لابی داؤد ۱ ، ۶۴
[2] حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’ اگر نماز کے وقت اتفاقا آنکھ نہ کھلے اور نماز قضا ہو جائے تو گناہ نہیں ، گناہ تو اس میں ہے کہ انسان جاگتا رہے اور دانستہ نماز قضا کر دے خیال رہے کہ وقت پر آنکھ نہ کھلنا اگر اپنی کوتاہی کی وجہ سے ہو ، گناہ ہے ، جیسے رات کو بلا وجہ دیر سے سونا جس سے دن چڑھے آنکھ کھلے یقینا جرم ہے۔ (مراۃ المناجیح ، ۱ / ۳۶۳)
[3] واضح حکم۔
[4] درمیانی نماز ۔ صلوۃ وُسطیٰ کے بارے میں علماء کے متعدد اقوال ہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ نماز فجر ہے ، ایک قول یہ ہے کہ نماز ظہر ہے ، ایک قول یہ ہے کہ عصر ، مغرب ، یا عشاء ، ایک قول یہ ہے کہ وتر ، ایک قول یہ ہے کہ تہجد ، ایک قول یہ ہے کہ چاشت و اشراق اور ایک قول یہ ہے کہ عیدین مُراد ہے ۔ (ملخص از تفسیر روح المعانی ۲؍ ۱۵۶) ، مگر راجح قول نماز ِ عصر کے متعلق ہے ۔ جیسا کہ امام عبد الرزاق ، امام ابن ابی شیبہ ، امام احمد ، امام بخاری ، امام مسلم ، امام ابوداؤد ، امام ترمذی ، امام نسائی ، امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں ۔ حضرت علی المرتضی ص سے نمازِ وُسطیٰ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے جواب دیا ہم یہ خیال کرتے تھے کہ صلوۃ وُسطیٰ فجر کی نماز ہے ۔ حتی کہ میں نے جنگ خندق کے موقع پر رسول کریم ا کو یہ فرماتے ہوئے سنا اُن(کفار)کیساتھ مشغول رہنے کی وجہ سے ہم صلوۃ وسطیٰ العصر نہیں پڑھ سکے ، اﷲ تعالیٰ اُن کی قبروں کو اور ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے ۔ (الصحیح مسلم ، کتاب المساجد ا / ۲۲۶)۔ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ایک موقع پر صلوۃ وُسطیٰ سے متعلق فرماتے ہیں ۔
مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے واری تیری نیند پر نماز
اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خطر کی ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع