دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Arbaeen-e-Hanfiya | اربعین حنفیہ

book_icon
اربعین حنفیہ

نیز حدیث بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ([1]) جس میں ایک سائل نے حضور پر نور ، شافع یوم النشور  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے اوقات نماز کا سوال کیا اس کی تائید کرتی ہے ۔ اس میں آیا ہے فَلَمَّا اَنْ کَانَ الْیَوْمُ الثَّانيْ أَمَرَہ أَبْرِدْ بِالظُّھْرِ فَأَبْرَدَ بِھَا فَاَنْعَمَ أَنْ یُبْرِدَ بِھَا۔ جب دوسرا دن ہوا تو حضور عَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  نے فرمایا کہ ظہر کو سرد کرو تو اس نے سرد کیا اور سرد کرنے میں مبالغہ کیا اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ بعد مثل کے ادا ہو ۔ اور یہ کہنا کہ بعد مثل ظہر اورعصر کا وقت مشترک ہے اجماع کے خلاف ہے ۔ بعض علماء نے امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے نقل کیا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ ان کا قول بھی یہی ہے کہ ظہر کا اخیر وقت ایک مثل تک ہے۔ کَذَا فِیْ رَحْمَۃُ الْاُمَّۃِ للِشَّعْرَانِیْ۔

اس تحقیق سے کما حقہ ثابت ہوگیا کہ امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا مذہب کہ ظہر کا وقت دو مثل تک ہے نہایت صحیح اور احادیث صحیحہ کے موافق ہے ۔ فقہاء علیہم الرحمۃ نے اسی کو اختیار کیا ۔ بدائع میں اس کو صحیح لکھا ہے ۔ محیط اور ینابیع میں وَ ھُوَ الصَّحِیْحُ لکھا ہے ۔

حدیث {۵}

عَنْ اَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ :  

قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَاَبْرِدُوْا بِالصَّلوٰۃِ فَإِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِِ جَھَنَّمَ ۔  مُتَفِقٌ عَلَیْہِ ([2])

ترجمہ : - حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ فرمایا رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے جب گرمی کی شدت ہو تو نماز کو ٹھنڈا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش سے ہوتی ہے ۔

اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا۔ ایک دوسری حدیث([3])  میں تصریح ہے کہ ظہر کو ٹھنڈا کرو جس کو امام بخاری نے ابو سعید خدری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ نماز کو گرمیوں میں ٹھنڈا کرکے پڑھنا مستحب ہے ۔

یہی مذہب امام ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِو جمہو ر صحابہ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کا ہے ۔ رہی یہ بات کہ ابراد([4])  کی حد کیا ہے ۔ احادیث میں اس کی حد بھی معلوم ہوتی ہے کہ ایک مثل کے بعد پڑھے ۔ چنانچہ حدیث چہارم میں مفصل گزرا۔ تو گرمیوں میں ظہر کو مثل سے پہلے پڑھنا اس حدیث کے خلاف ہے ۔ نماز جمعہ کا بھی یہی حکم ہے کہ گرمیوں میں دیر سے اور سردیوں میں سویرے پڑھنا مستحب ہے ۔

  حدیث {۶}

عَنْ عَلِّيِ بْنِ شَیْبَانَ قَالَ قَدِمْنَا عَلیٰ رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اَلْمَدِیْنَۃَ فَکَانَ یُؤَخِّرُ الْعَصْرَ مَا دَامَتِ الشَّمْسُ بَیْضَائَ نَقِیِّۃً۔ رواہ أبوداؤد وسکت عنہ۔

ترجمہ : -حضرت علی بن شیبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ ہم مدینہ شریف میں رسول کریم ، رؤف رحیم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ عَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام   عصر کی نماز میں تاخیر فرماتے تھے جب تک سورج صاف اور روشن رہتا ۔ ([5])

اس کو ابوداؤد نے روایت کیا اور اس پر سکوت فرمایا۔ ابوداؤد جس حدیث پر سکوت فرماتے ہیں وہ ان کے نزدیک حسن ہوتی ہے ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز عصر کو تاخیر سے پڑھنا مستحب ہے ۔ اور تاخیر کی حد بھی معلوم ہوگئی کہ سورج کے زرد ہونے سے پہلے پڑھے جبکہ آفتاب صاف اور روشن ہو۔ اتنی تاخیر نہ کرے کہ وقت مکروہ ہوجائے۔ اسی کی تائید میں وہ حدیث ہے جو امام احمد وترمذی نے بسند صحیح ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت کیا ہے ۔ وہ فرماتی ہیں کہ جناب رسول کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نماز ظہر کو تم سے جلدی پڑھتے تھے اور تم نماز عصر جناب رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے جلدی پڑھتے ہو([6])۔ معلوم ہوا کہ نماز عصر میں تاخیر کرنا مستحب ہے ۔ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا یہی طریقہ تھا اور یہی امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا مذہب ہے ۔

عبد الرزاق اپنی مصنف میں ثوری سے وہ ابو اسحاق سے وہ عبدالرحمن بن یزید سے روایت کرتے ہیں کہ عبد اﷲ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  عصر کی نماز میں تاخیر کیا کرتے تھے۔ ([7])

اسی طرح عبد الواحد بن نافع کہتے ہیں کہ میں مسجد مدینہعَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ وَ السَّلاَمُ میں داخل ہوا تو مؤذن نے نماز عصر کے لئے اذان دی۔ ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے مؤذن کو ملامت کی اور فرمایاکہ میرے باپ نے مجھے خبردی ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نماز عصر کی تاخیر کا حکم دیا کرتے تھے ۔ میں نے پوچھا کہ یہ بزرگ کون ہیں ۔ لوگوں نے کہا یہ  عبد اﷲ بن رافع بن خدیج ہیں ۔ اس حدیث کو دارقطنی اور بیہقی نے روایت کیا ۔ صحیح بہاری جلد ۲ ص ۳۵۹

معلوم ہوا کہ نماز عصر میں تاخیر مستحب ہے اور جن حدیثوں میں عصر کا سویرے ([8]) پڑھنا آیا ہے وہ ان احادیث کے منافی نہیں کیونکہ سورج کے تغیر سے پہلے عصر پڑھ لینے سے غروب



[1]    الصحیح لمسلم ۱ / ۴۲۸۔

[2]   صحیح البخاری ۱ / ۱۹۸‘ الصحیح لمسلم ۱ / ۴۳۰۔

[3]   صحیح البخاری۳ ، ۱۱۹۰ ، ۱ ، ۱۹۹۔

[4]   ٹھنڈا کرنا ۔ یعنی گرمی کے جوش میں جب کچھ کمی آجائے تو اُس وقت ظہرادا کرنا۔

[5]   سنن ابی داؤد  ۱ / ۱۱۱

[6]   جامع الترمذی ابواب الصلوۃ ۱  /۲۳۔

[7]   مصنف عبدالرزاق ۱ ، ۳۰۶۔

[8]   جلدی۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن