دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Arbaeen-e-Hanfiya | اربعین حنفیہ

book_icon
اربعین حنفیہ

حضرت سیدنا عمر فاروق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ :

عَنْ اَبِِي عُثْمَانَ النَّھْدِي قَالَ صَلَّیْتُ خَلْفَ عُمَرَ صَلٰوۃَ الْفَجْرِ فَمَا سَلَّمَ حَتّٰی ظَنَّ الرِّجَالُ ذَوُو الْعَقُوْلِ أنَّ الْشَّمْسَ طَلَعَتْ فَلَمْ یُسَلِّمْ قَالُوْ ا یَاأَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ کَادَتِ الْشَّمْسُ تَطْلَعُ قَالَ فَتَکَلَّمَ بِشَی ئٍ لَمْ اَفْھَمُہ فَقُلْتُ أَیَّ شَیْئٍ قَالَ فَقَالُوْا لَوْ طَلَعَتِ الْشَّمسُ لَمْ تَجِدْنَا غَافِلِیْنَ۔  رَوَاہٗ الْبَیْھَقِي فِي السُّنَنِ الْکُبْرٰی۔ ([1])

حضرت ابو عثمان نہدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پیچھے نماز فجر پڑھی آپ نے سلام نہ پھیرا یہاں تک کہ عقلمند لوگوں نے ظن(گمان) کیا کہ آفتاب طلوع ہو گیا اور آپ نے سلام نہ پھیرا ۔ لوگوں نے (بعد فراغت نماز ) عرض کی کہ اے امیر المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آفتاب نکلنے کے قریب ہے ۔ حضرت ابو عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کچھ کلام کیا جو میں نہیں سمجھا تو میں نے لوگوں سے پوچھا کہ آپ نے کیا فرمایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ اگر آفتاب نکل آتا تو ہمیں غافل نہ پاتا۔ اس کو بیہقی نے سنن کبریٰ میں روایت کیا۔ صحیح بہاری

(ف) : معلوم ہوا کہ حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  بھی اسفار میں نماز فجر پڑھا کرتے تھے ۔

حضرت سیدنا علی المرتضی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ :

عَنْ یَزِیْدِ الْاَوْدِيْ قَالَ کَانَ عَلِيُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ یُصَلِّيْ بِنَا الْفَجْرَ وَنَحْنُ نَتْرَائُ الْشَّمْسَ مَخَافَۃَ اَنْ تَکُوْنَ قَدْ طَلَعَتْ رَوَاہٗ الطَّحَاوِيْ([2])۔

یزید الاودی کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ہمیں فجر کی نماز پڑھایا کرتے تھے اور ہم آفتاب کو دیکھتے تھے اس ڈر سے کہ کہیں نکل نہ آیا ہو۔ معلوم ہوا کہ حضرت سیدنا علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  بھی اچھی روشنی میں فجر پڑھا یا کرتے تھے۔

عبدالرزاق ابن ابی شیبہ و طحاوی نے بسند صحیح روایت کیاہے کہ حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے مؤذن کو فرماتے تھے اَسْفِرْ اَسْفِرْ یَعْنِيْ بِصَلوٰۃِ الصُّبْحِ۔  کہ اسفار کرو اسفار کرو صبح کی نماز میں ۔ ([3])

حضرت سیدنا عبد اﷲ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ :

امام طحاوی عبد الرحمان بن یزید سے روایت کرتے ہیں ۔

قَالَ کُنَّا نُصَلِّيْ مَعَ ابْنِ مَسْعُوْدٍ فَکَانَ یُسْفِرُ بِصَلوٰۃِ الْصُّبْحِ۔ ([4])

عبدالرحمان کہتے ہیں کہ ہم ابن مسعود  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ۔ وہ نماز صبح میں اسفار کیا کرتے تھے ۔ طبرانی نے کبیر میں اس طرح روایت کیا ہے ۔ کَانَ عَبدُ اﷲِ بْنُ مَسْعُوْدٍ یُسْفِرُ بِصَلوٰۃِ الْفَجْرِ مجمع الزوائد میں اس کے سب راوی ثقہ لکھے ہیں ۔ ([5])

الحاصل مذہب امام اعظم کا کہ فجر میں اسفار مستحب ہے نہایت قوی ہے ۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی اشعۃ اللّمعات میں فرماتے ہیں کہ فجر کی تاخیر اخیر وقت تک اجماعًا بلا کراہت مباح ہے اور تقلیل جماعت بھی مکرو ہ۔ اور لوگوں کو مشقت میں ڈالنا بھی مکروہ یعنی غلس میں فجر پڑھنا ایک تو تقلیل جماعت کا باعث ہے جو مکروہ ہے او ر دوسرا لوگوں کو مشقت میں ڈالنا ہے اور وہ بھی مکروہ ہے ۔ جیسے حضرت سیدنا معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے طویل قرأت سے منع فرمایا ۔ اور اسفار میں نماز پڑھنا باعث کثرت جماعت اور آسانی ہے۔ علاوہ اس کے فجر کی نماز کے بعد اسی جگہ آفتاب نکلنے تک بیٹھے رہنا مستحب ہے جو اسفار میں آسان ہے لیکن غلس میں آسان نہیں ۔ وا تعالیٰ اعلم۔

 حدیث {۴}

 ظہر کا مسنون وقت

 عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ کُنَّا مَعَ الْنَّبِي صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ یُؤَذِّنَ فَقَالَ لَہ اَبْرِدْ ثُمَّ اَرَادَ اَنْ یُّؤَذِّنَ فَقَالَ لَہ اَبْرِدْ ثُمَّ اَرَادَ أنْ یُّؤَذِّنَ فَقَالَ لَہ اَبْرِدْ حَتّٰی سَاوَی الْظِّلُّ التَّلُوْلَ فَقَال الْنَّبِيُّ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم إِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَھَنَّمَ ۔ رَوَاہٗ الْبُخَارِيْ([6])

ترجمہ : - حضرت سیدنا ابو ذر غفاری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ سفر میں تھے ۔ مؤذن نے اذان دینے کا ارادہ کیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا ٹھنڈا کرو یعنی وقت ٹھنڈا ہونے د و ۔ اس نے پھر تھوڑی دیر کے بعد اذان دینے کا ارادہ کیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا ٹھنڈا ہونے د و۔ اس نے پھر تھوڑی دیر کے بعد اذان کا ارادہ کیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا اور ٹھنڈا ہونے دو ۔ یہاں تک کہ سایہ ٹیلوں کے



[1]   السنن الکبری للبیھقی  ۱ ، ۳۷۹۔

[2]   شرح معانی الاثار للطحاوی۱ / ۱۰۴۔

[3]   مصنف عبدالرزاق ۱ / ۴۱۹ ،  شرح معانی الاثار للطحاوی ۱ / ۲۳۲ ۔

[4]   شرح معانی الاثار  للطحاوی ۱ / ۲۳۵۔

[5]   مجمع الزوائد کتاب الصلوٰۃ۲ / ۶۵۔

[6]   صحیح البخاری ۱ / ۸۷  باب الاذانالصحیح لمسلم باب استحباب الابراد بالظہر ۱ / ۴۳۰۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن